30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الکبار واتباعھم وتبریکھم ایاھم ۔
اس حدیث میں بہت علوم پوشیدہ ہیں ،اس میں آثار صالحین سے برکت حاصل کرنے کا جواز بھی ہے اور اس میں علماء صلحاء کی زیارت کو جانا اور ان سے برکت لینے کی ترغیب بھی ہے ۔
اسی میں زیر حدیث ابو حجیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :۔
فخرج بلال بو ضوئہ فمن نائل وناضح ،فرمایا:۔
فیہ التبرک بآثار الصالحین واستعمال فضل طہورھم وطعام ھم وشرابھم ولباسھم ۔
اس حدیث میں نیکوں کے آثار سے برکت حاصل کرنے پر دلیل ہے ، نیز ان کی طہارت کے بچے ہوئے پانی ،اور ان کے بچے ہوئے کھانے اور پانی اور لباس کے استعمال کرنے کی عظمت کا ثبوت بھی ہے ۔
اسی میں حدیث مذکور کے تحت فرماتے ہیں ۔
فیہ التبرک بآثار الصالحین ۔
اس طرح کی صدہا عبارات ہیں جسکے حصر واستقصاء میں محل طمع نہیں ،یہ سب ایک طرف ، فقیر غفر اللہ تعالیٰ لہ حدیث صحیح سے ثابت کرے کہ خود حضور پرنور سیدیوم النشور افضل صلوات اللہ تعالیٰ واجل تسلیماتہ علیہ وعلی آلہ وذریاتہ آثار مسلمین سے تبرک فرماتے ۔وللہ الحجۃ البالغہ ۔
۳۴۲۴۔ عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : کان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یبعث الی المطاہر فیوتی بالماء فیشربہ یرجو بہ برکۃ ایدی المسلمین ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سے روایت ہے کہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مسلمانوں کی طہارت گاہوں مثل حوض وغیرہ سے جہاں اہل اسلام وضوکیا کرتے ،پانی منگاکر نوش فرماتے اور اس سے مسلمانوں کے ہاتھوں کی برکت لینا چاہتے ،صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ وسلم ۔
{ ۹} امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع