30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فعمی علیک النا ظر
من شاء بعدک فلیمت
فعلیک کنت احاذر
اللہ کا محبوب ،امت کا را عی، کس پیار کی نظر سے اپنی پالی ہوئی بکریوں کو دیکھتا اور محبت بھرے دل سے انہیں حافظ حقیقی کے سپرد کر رہا ہے، شان رحمت کو ان کی جدائی کا غم بھی ہے اور فوج فوج امنڈتے ہوئے آنے کی خوشی بھی کہ محنت ٹھکانے لگی، جس خدمت لو ملک العرش نے بھیجا تھا باحسن الوجوہ انجام کو پہونچی۔
نوح کی ساڑھے نو سو برس وہ سخت مشقت اور صرف پچاس شخصوں کو ہدایت ۔
یہاں بیس تیس ہی سال میں بحمداللہ یہ روز افزوں کثرت ۔ کنیز و غلام جوق جوق آرہے ہیں جگہ با ر بار تنگ ہوتی جاتی ہے ۔ دفعہ دفعہ ارشاد ہوتا ہے آنے والوں کو جگہ دو ۔ آنے والوں کو جگہ دو ۔ اس عام دعوت پر جب یہ مجمع ہو لیا ہے سلطان عالم نے منبر اکرم پر قیام کیا ہے بعد حمد صلوۃ اپنے نسب و نام و قوم مقام و فضائل عظام کا بیان ارشاد ہوا ہے ۔ مسلمانو! خدا را پھر مجلس میلاد اورکیا وہی دعوت عام وہی مجمع تام وہی منبر و قیام وہی بیان فضائل سید الانام علیہ و علی الہ الصلوۃ والسلام ، مجلس میلاد اور کس شیٔ کا نام مگر نجدی صاحبوں کو ذکر محبوب مٹانے سے کام ۔ربنا الرحمن المستعان و بہ الاعتصام و علیہ التکلان۔
جزاء اللہ عدوہ ۶۹تا ۷۲
سنن بیہقی میں حدیث طویل حضرت ا بن زمل جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بعد نماز صبح پاوں بدلنے سے پہلے ستر بار فرماتے ،سبحان اللہ وبحمدہ و استغفر اللہ ان اللہ توابا ۔
پھر فرماتے یہ ستر سات سو کے برابر ہیں ، نرا بے خیر ہے جو ایک دن میں سات سو سے
زیادہ گناہ کرے یعنی ہرنیکی کم از کم دس ہے، من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا، تو یہ ستر کلمے سات سو نیکیاں ہوئے اور ہر نیکی کم از کم بدی کو محو کرتی ہے ،ان الحسنات یذھبن السیات، تو اس کے پڑھنے والے کی نیکیاں ہی غالب رہیں مگر وہ کہ دن میں سات سو گناہ سے زیادہ کرے اور ایسا سخت ہی بے خیر ہوگا ،وحسبنا اللہ ونعم الوکیل۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع