30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انا محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب بن ہاشم العربی الحرمی المکی لا نبی بعدی الحدیث ،میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم عربی صاحب حرم محترم و مکہ معظمہ ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہذا مختصر ۔
اللہ اللہ ایک وہ دن تھا کہ مدینہ طیبہ میں حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی دھوم ہے۔ زمین و آسمان میں خیر مقدم کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ خوشی و شادمانی ہے کہ در و دیوار سے ٹپکی پڑتی ہے، مدینہ کے ایک ایک بچہ کا دمکتا چہرہ انار دانہ ہو رہا ہے ،باچھیں کھلی جاتی ہیں دل ہیں کہ سینوں میں نہیں سماتے، سینوں پر جان تنگ جاموں میں قبائے گل کا رنگ نور ہے جھما جھم برس رہا ہے ،فرش سے عرش تک نور کا بقعہ بنا ہے ،پردہ نشیں کنواریاں شوق دیدار محبوب کردگا ر میں گاتی ہوئی باہر آئی ہیں کہ ۔
طلع البدر علینا من ثنیا ت الوداع
وجب الشکر علینا ما دعا للہ داع
بنی نجا ر کی لڑکیاں کوچے کوچے محو نغمہ سرائی ہیں کہ ۔
نحن جوار من نبی النجار
یا حبذا محمد من جار
ایک دن آج ہے کہ اس محبوب کی رخصت ہے مجلس آخری وصیت ہے، مجمع تو آج بھی وہی ہے بچوں سے بوڑھوں تک مردوں سے پردہ نشینوں تک سب کا ہجوم ہے، ندائے بلا ل سنتے ہی چھوٹے بڑے سینوں سے دل کی طرح بے تابانہ نکلے ہیں، شہر بھر نے مکانوں کے دروازے کھلے چھوڑ دئیے ہیں، دل کمہلائے چہرے مرجھائے دن کی روشنی دھیمی پڑ گئی کہ آفتاب جہاں تاب کی وداع نزیک ہے، آسمان پژمردہ زمین افسردہ جدھر دیکھو سناٹے کا عالم
اتنا اژدحام اور ہو کا مقام ، آخری نگاہیں اس محبوب کے روئے حق نما تک کس حسرت و یاس کے ساتھ جاتیں اور ضعف نومیدی سے ہلکان ہو کر بیخودانہ قدموں پر گر جاتی ہیں ،فرط ادب سے لب بند مگر دل کے دھوئیں سے یہ صدا بلند ۔
کنت السواد لنا ظری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع