30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت جابر بن عبد للہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر ابراہیم زندہ رہتا تو صدیق و پیغمبر ہوتا ۔
و فی الباب عن عبد اللہ بن عباس، و عن عبد اللہ بن ابی اوفی، و عن انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔
{ ۶} امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
ان احادیث کی روشنی میں وہ اشتباہ کافور ہوگیا جوامام نووی کو ان کی جلالت شان اور علم حدیث وغیرہ میں وسعت معلومات کے باوجود پیش آیا ۔انہوں نے کہا کہ امام ابو عمر بن عبد البر نے اپنی کتاب ( تمہید یاکوئی دوسری کتاب ) میں کیا کہہ دیا کہ اگر حضرت ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے ۔ میرے فہم وفراست سے یہ بات بالاتر ہے ، ارے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا بیٹا تو زندہ رہا پھر بھی غیر نبی تھا (بلکہ ایک توکافر رہا ایمان تک نہ لایا )اگر ایسا ہی ہو کہ ہرنبی کی اولاد نبی ہی ہو تو پھر ہرشخص نبی ہوتا کہ سب حضرت نوح کی اولاد ہی سے باقی ہیں ، باقی
دوسروں کی نسل ہی نہ چلی ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۳۵۶۔ کنز العمال للمتقی ۳۵۵۵۳، ۱۲/۴۵۵ ٭ تاریخ دمشق لا بن عساکر، ۱/۲۹۵
۳۳۵۷۔ تاریخ دمشق لا بن عساکر، ۱/۲۹۵ ٭
وجعلنا ذریتہ ھم الباقین۔
ہم نے اسی کی اولاد کوباقی رکھا ۔
علمائے کرام نے اس کا جواب اس طرح دیا ۔ کہ قضیہ شرطیہ کے لئے وقوع لازم نہیں ۔
اقول : ہاں ٹھیک ہے لیکن لزوم کاافادہ تو کرتاہی ہے ، اب اگر بنائے قول یہ ہو کہ نبی کا بیٹا نبی ہی ہوگا جب تو ابو عمر بن عبدا لبرپر الزام درست ہے ۔
لیکن حق بات یہ ہے کہ انبیائے سابقین علیہم الصلوۃ والسلام اور ان کے بیٹوں کو حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپکے بیٹوں پر قیاس کرنا درست نہیں ، کہ اگر حضور کا صاحبزادہ حضور کے بعد نبوت کا مستحق قرار دیا جائے تو اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع