30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کٹ چکے ہیں اس وقت توبہ قبول ہوئی ،شرح الشفا للقاری وللمرقاۃ ونسیم الریاض والفاسی و مجمع البحار برمز (ن) للامام النودی والزی رایتہ فی منہا جہ ماقدمت فحسب ۔
۱۱۔ وہ خود کثیر التوبہ ہیں ،صحیح بخاری میں ہے، میں ہر روز اللہ سبحٰنہ سے سوبار استغفار کرتا ہوں ،شرح الشفا والمرقاۃ واللمعات والمجمع برمز (ط) للطبیبی والزرقانی، ہر ایک کی توبہ اس کے لائق ہے، حسنات الابرار سیات المقربین۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہر آن ترقی مقامات قرب ومشاہدہ میں ہیں ،وللاخرۃ خیرلک من الاولی ۔جب ایک مقام اجل واعلی پر ترقی فرماتے گزشتہ مقام کو بہ نسبت اس کے ایک نوع تقصیر تصور فرماکر اپنے رب کے حضور توبہ و استغفار لاتے تو وہ ہمیشہ ترقی اور ہمیشہ ترقی اور ہمیشہ توبۂ بے تقصیر میں ہیں ،صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مطالع مع بعض زیادات منی ۔
۱۲۔ انہیں کے امت کے آخر میں باب توبہ بندہوگا ،شرح الشفا للقاری اگلی نبوتوں میں اگر کوئی ایک نبی کے ہاتھ پر تائب نہ ہوتا امکان رہتا کہ دوسرا نبی آئے اس کے ہاتھ پر توبہ لائے یہاں باب نبوت مسدود اور ختم ملت پر توبہ مفقود، تو جو ان کے دست اقدس پر توبہ نہ لائے اس کے لئے کہیں توبہ نہیں ،افادہ الفاسی وبہ استقام کونہ من وجوہ التسمی بھذالاسم
العلی السمی ۔
۱۳۔ وہ فاتح باب توبہ ہیں، سب میں پہلے سیدنا آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے توبہ کی وہ انہیں کے توسل سے تھی تو وہی اصل توبہ ہیں اور وہی وسیلۂ توبہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، مطالع ۔
۱۴۔ وہ توبہ قبول کرنے والے ہیں ،ان کادروازۂ کرم توبہ و معذرت کرنے والوں کے لئے ہمیشہ مفتوح ہے ،جب سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کعب بن زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خون ان کے زمانۂ نصرانیت میں مباح فرمادیا ہے ۔ان کے بھائی بجیر بن زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں لکھا ،طرالیہ فانہ لایرد من جاء تائبا، ان کے حضور اڑ کر آؤ جو ان کے سامنے توبہ کرتا حاضر ہو یہ اسے کبھی رد نہیں فرماتے، مطالع المسرات ،اسی بنا پر کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب حاضر ہوئے راہ میں قصیدہ نعتیہ بانت سعاد نظم کیا جس میں عرض رساہیں ۔
انبئت ان رسول اللہ اوعد نی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع