30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴۔ وہ توبہ کا حکم لے کر آئے ۔ ذکر ہ الامام النودی فی شرح صحیح مسلم والقاری فی جمیع الوسائل والزرقانی فی شرح المواہب ۔
۵۔ اللہ عزوجل کے حضور سے قبول توبہ کی بشارت لائے۔ ذکرہ الزرقانی فی شرح المواہب والمنادی فی التیسیر ۔
۶۔ اقول بلکہ وہ تو بہ عام لائے، ہر نبی صرف اپنی قوم کے لئے توبہ لاتا وہ تمام جہان سے توبہ لینے آئے ۔صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔
۷۔ بلکہ توبہ کا حکم وہی لے کر آئے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء سب ان کے نائب ہیں تو روز اول سے آج تک اور آج سے قیامت تک جو توبہ خلق سے طلب کی گئی یاکی جائے گی واقع ہوئی یاوقوع پائے گی سب کے نبی ہمارے نبی توبہ ہیں۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ،ذکر ہ الفاسی فی مطالع المسرات فجزاء اللہ تعالیٰ معانی المبراث وعوالی المسرات ۔
۸۔ توبہ سے مراد اہل توبہ ہیں ،ای علی وزان قولہ تعالیٰ وسل القریۃ، یعنی توابین کے نبی ،مطالع المسرات مع زیادۃ منی،
اقول:۔ اب اوفق یہ ہے کہ توبہ سے مراد ایمان لیں ،کما سوغہ المنادی ثم
العزیزی فی شروح الجامع الصغیر ۔حاصل یہ کہ تمام اہل ایمان کے نبی ۔
۹۔ ان کی امت توابین ہیں ،وصف توبہ میں سب امتوں سے ممتاز ہیں ،قرآن ان کی صفت میں التائبون فرماتا ہے، جمع الوسائل۔ جب گناہ کرتے ہیں توبہ لاتے ہیں یہ امت کا فضل ہے اور امت کاہرفضل اس کے نبی کی طرف راجع ۔مطالع
اقول وبہ فارق ماقبلہ فلیس فیہ حذف ولاتجوز ۔
۱۰۔ ان کی امت کی توبہ سب امتوں سے زائد مقبول ہوئی، حفنی علی الجامع الصغیر کہ ان کی توبہ میں مجر د ندامت وترک فی الحال وعزم امتناع پر کفایت کی گئی، نبی الرحمۃ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے بوجھ اتار لئے اگلی امتوں کے سخت وشدید باران پر نہ آنے دیئے، اگلوں کی توبہ سخت سخت شرائط سے مشروط کی جاتی تھی، گو سالہ پرستی سے بنی اسرائیل کی توبہ اپنی جانوں کے قتل سے رکھی گئی ،کما نطق بہ القراآن العزیز، جب ستر ہزار آپس میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع