30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے کہ قرآن عظیم تصریح فرماچکا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خاتم النبیین وآخر المرسلین ہیں اور حدیث میں فرمایا میں پچھلانبی ہوں ،میرے بعد کوئی نبی نہیں ،اور تمام امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام اپنے ظاہر پر ہے یعنی عموم واستغراق بلاتاویل وتخصیص اور یہ ان مشہور مسئلوں سے ہے جن کے سبب ہم اہل اسلام نے کافر کہا فلاسفہ کو اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے ۔، المبین
امام علامہ شہاب الدین فضل اللہ بن حسین تور پشتی حنفی کتاب المعتمد فی المنتقد میں فرماتے ہیں: ۔
بحمد اللہ یہ مسئلہ اہل اسلام کے درمیان ایسا روشن وظاہر ہے کہ اس کے بیان کی حاجت نہیں ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
میرے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں ہوگا ۔ اس مسئلہ کا انکار وہی شخص کرسکتا ہے جو حضور کی نبوت ہی کا منکر ہو ۔ کیونکہ آپ کی رسالت کا اعتراف کرنے کے بعد حضور کی دی ہوئی خبر کو ہر شخص صادق مانتا ہے ۔
چنانچہ جس طرح حضور کی رسالت ہمارے نزدیک بلاشک وارتبات ثابت ومتحقق اور
تواتر سے ثابت ہے اسی طرح یہ ثابت ومتواتر ہے کہ حضور کے زمانہ اقدس یا آپکے بعد قیامت تک کوئی دوسرا نبی نہیں ہوسکتا اور حضور باعتبار زمانہ انبیائے کرام کے بعد تشریف فرماہوئے اب جسکو اس میں شک ہے اس کو خاتم الانبیاء ہونے میں شک ہے ۔ رہا وہ شخص جو کہتا ہے کہ حضور کے بعد کوئی نبی تھا ،یا ہے ، یا، ہوگا ،یا، ہوسکتا ہے تو وہ کافر ہے ۔ حضور خاتم الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان لانے کے لئے آپکو باعتبار زمان آخری نبی ماننا شرط ہے ۔
ٍ (۲) حضور کے بعد کوئی نبی نہیں
۳۳۱۹۔ عن حذیفۃ ابن الیمان رضی اللہ تعالی عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : فی امتی کذابون ودجالون سبعۃ و عشرون ،منہم اربعۃ نسوۃ ، وانی خاتم النبیین لا نبی بعدی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع