30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں خواہ حضور کے بعد کسی کی نبوت کا ادعاء کرے ، کافر ہے اور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والا کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خبردی کہ حضور خاتم النبیین ہیں اور ان کی رسالت تمام لوگوں کو عام ہے اور امت نے اجماع کیا ہے کہ یہ آیات واحادیث اپنے ظاہر پر ہیں جو کچھ ان سے مفہوم ہوتا ہے وہی خداورسول کی مراد ہے ، نہ ان میں کوئی تاویل ہے نہ کچھ تخصیص تو جولوگ اس کا خلاف کریں وہ بحکم اجماع امت وبحکم قرآن وحدیث سب یقیناً کافر ہیں۔
امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی ،کتاب الاقتصاد میں فرماتے ہیں :۔
ان الامۃ فھمت من ھذااللفظ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابدا وعدم رسول بعدہ ابدا وانہ لیس فیہ تاویل ولاتخصیص من اولہ بتخصیص فکلامہ من انواع الھذیان لایمنع الحکم بتکفیرہ لانہ مکذب لھذا النص الذی اجمعت الامۃ علی انہ غیر مؤول ولامخصوص ملخصا ۔
’’ یعنی تمام امت مرحومہ نے لفظ خاتم النبیین سے یہی سمجھا ہے ،وہ بتاتا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد کبھی کوئی نبی نہ ہوگا ،حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے
بعد کوئی رسول نہ ہوگا اور تمام امت نے یہی مانا ہے کہ اس میں اصلاً کوئی تاویل یاتخصیص نہیں ،تو جو شخص لفظ خاتم النبیین میں النبیین کو اپنے عموم واستغراق پر نہ مانے بلکہ اسے کسی تخصیص کی طرف پھیرے اس کی بات مجنون کی بک یاسرسامی کی بہک ہے ، اسے کافر کہنے سے کچھ ممانعت نہیں کہ اس نے نص قرآنی کو جھٹلایا جس کے بارے میں امت کا اجماع ہے کہ اس میں نہ کوئی تاویل ہے نہ تخصیص ۔،،
عارف باللہ سیدی عبد الغنی نابلسی قدس سرہ القدسی شرح الفوائد میں فرماتے ہیں :۔
تجویز نبی مع نبینا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم او بعدہ یستلزم بتکذیب القرآن اذ قد نص علی انہ خاتم النبیین واٰخر المرسلین وفی السنۃ اناالعاقب لانبی بعدی وجمعت الامۃ علی ابقاء ھذا الکلام علی ظاھرہ وھذہ احدی المسائل المشھورۃ التی کفر نا بھا الفلاسفۃ لعنھم اللہ تعالیٰ ۔
ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ یابعد کسی کو نبوت ملنی جائز ماننا ، تکذیب قرآن کو مستلزم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع