30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہمارے نبی سید الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیہم وسلم کے سوا کسی نبی کو یہ پانچوں ملنا ، علماء اس کی بھی تصریح فرماتے ہیں ۔
امام جلال الدین سیوطی نے خصائص کبری میں ایک باب وضع کیا ۔
باب اختصاصہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مجموع الصلوات الخمس و لم تجمع لاحد ۔
یہ باب اس چیز کے بیان میں ہے کہ پانچ نمازوں کا مجموعہ حضور کے ساتھ خاص ہے ، آپ سے پہلے کسی نبی کے لئے یہ جمع نہ ہوئیں ۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلبی حلیہ میں بعض علماء سے ناقل:۔
ہذہ الصلوٰۃ و تفرقت فی الانبیاء و جمعت فی ہذہ الامۃ ۔
یہ نمازیں باقی انبیاء کو متفرق طور پر عطا کی گئیں اور اس امت کے لئے جمع کر دی گئیں،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۳۰۹۔ السنن لا بی داؤد، باب وقت العشاء الآخرۃ، ۱/۶۱
علامہ زرقانی شرح مواہب میں لکھتے ہیں:۔
لم تجمع لاحد غیرہم من الانبیاء و الامم۔
اس امت کے علاوہ باقی انبیاء اور امتوں میں سے کسی کے لئے یہ نمازیں جمع نہیں کی گئیں۔
پھر فرماتے ہیں ـ:۔
یہاں ہمارے مد عا پر حدیث امامت جبرئیل سے معارضہ پیش نہ کیا جائے جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ یا رسول اللہ ! یہ آپ کا اور آپ سے پہلے انبیائے کرام کی نمازوںکا وقت ہے ۔ عدم تعارض کی وجہ یہ ہے کہ یہ اوقات دیگر انبیائے کرام کو اجتماعی طور پر ملے تھے ۔ انفرادی طور پر تو ہر نبی کو کچھ وقت دئے گئے تھے ۔
لمعات و شرح ابن حجر مکی میں ہے ۔
حضرت جبرئیل کا قول بظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پانچ نمازیں پہلے انبیاء پر واجب تھیں ۔ لیکن یہاں مراد یہ ہے کہ عشا کے علاوہ باقی نمازیں دیگر انبیاء پر تقسیم کی گئی تھیں ۔ کیونکہ پانچ نمازوں کا مجموعہ ہماری خصوصیات سے ہے ۔ باقی انبیاء کو عشا کے علاوہ متفرق طور پر ملی تھیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع