30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳۳۰۸۔ عن انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:ثم ردت الیٰ خمس صلوات،قال:فارجع الی ربک فاسألہ التخفیف فانہ فرض علی بنی اسرائیل صلاتین فما قاموابھما ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حدیث معراج میں ارشاد فرمایا : پھر پچاس نمازوں کی پانچ رہیں ، موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کی : حضور پھر جائیں اور اپنے رب سے تخفیف چاہیں کہ اس نے بنی اسرائیل پر دو نمایں فرض فرمائی تھیں وہ انہیں بھی بجا نہ لائے ۔
اور امتوں کا حال خدا جانے مگر اتنا ضرور ہے کہ یہ پانچوں ان میں کسی کو نہ ملیں ، علماء نے بے خلافف اس کی تصریح فرمائی ۔
۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۳۰۸۔ السنن للنسائی، کتاب الصلوۃ، ۱/۷۸
مواہب شریف میں ہے :۔
اس امت کے خصائص سے پانچ نمازوں کا مجموعہ بھی ہے کہ امت مسلمہ کے علاوہ کسی اور امت کے لئے پانچ نمازیں جمع نہ کی گئیں ۔ شرح زرقانی میں اس کو درست کہا ، پھر لمعات میں شیخ نے ، شرح مشکوۃ میں امام ابن حجر مکی نے ، تیسروسراح المنیر شروح جامع صغیر میں بھی اس کی تصریح ہے ، بلکہ یہ معنی خود ارشاد حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ۔
۳۳۰۹۔ عن معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اعتموا بہذا الصلوٰۃ فانکم فضلتم بہا علی سائر الامم و لم تصلہا امۃ قبلکم۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نماز کو دیر کر کے پڑھو کہ تم اس سے تمام امتوں پر فضیلت دئے گئے ہو، تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہ پڑھی ۔
پر ظاہر کہ جب نماز عشا ہمارے لئے خاص ہے تو پانچوں کا مجموعہ بھی ہمارے سوا کسی امت کو نہ ملا ۔ رہا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع