30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ تعالیٰ نے ان کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ، اکابر قریش نے کہا : تمہیں کس نے بتایا ، اس نے کہا: جب تم لوگ مکہ سے چلے تو کوئی پتھر اور درخت ایسا نہیں تھا جس نے ان کو سجدہ نہ کیا ہو ، اور یہ سب صرف نبی ہی کو سجدہ کرتے ہیں ۔ نیز میں ان کو مہر نبوت سے بھی پہچانتا ہوں جو ان کے کاندھے کی ہڈی کے نیچے سیب کے مثل ہے ۔ پھر وہ واپس چلا گیا اور اس نے ان تمام لوگوں کے لئے کھانا تیار کیا ، جب وہ کھانا لیکر آیا تو آپ اونٹوں کو چرا رہے تھے ، راہب نے کہا :ان کو بلاؤ، آ پ تشریف لائے تو آپ کے سر انور پر بادل سایہ فگن تھا ، قوم کے پاس پہونچے تو دیکھا کہ تمام لوگ درخت کے سایہ میں پہونچ چکے ہیں ۔ لیکن جب آپ تشریف فرما ہوئے تو سایہ آپ کی طرف جھک گیا ، راہب نے کہا: درخت کے سایہ کو دیکھو کہ آپ کی طرف جھک گیا ۔ راوی فرماتے ہیں :راہب ان کے پاس کھڑا نہیں قسمیں دے رہا تھا کہ انہیں روم کی طرف نہ لے جاؤ کیونکہ رومیوں نے انہیں دیکھ لیا تو ان کی صفات کے ساتھ پہچان لیں گے اور قتل کردیں گے، اچانک اس نے مڑ کر دیکھا توسات آدمی روم کی طرف سے آرہے تھے ۔ راہب نے ا ن کا استقبال کیا اور پوچھا کیسے آئے ہو ؟ انہوں نے کہا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ نبی اس مہینے گھر سے باہر نکلنے والے ہیں ، اس لئے ہر راستہ پر کچھ لوگ بٹھائے گئے ہیں اور ہمیں ان کی خبر ملی ہے لہذا ہم اس راستہ کی طرف آئے ہیں ،راہب نے پوچھا ، کیا تمہارے پیچھے تم سے کوئی بہتر آدمی بھی ہے؟بولے : ہمیں آپ کے اس راستہ کی خبر دی گئی ہے اس نے کہا :بتاؤ تو سہی کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ فرمائے تو اسے کوئی روک سکتا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ،راوی فرماتے ہیں : کہ ان سب نے حضور کے یا راہب کے ہاتھ پر عہد کر لیا ( کہ اپنی حرکت سے باز رہیں گے ) اور وہیں اقامت اختیار کر لی کہ واپس ہی نہ گئے ۔ پھر راہب نے ان قافلہ والوں سے کہا : میں تمیں قسم دیکر پوچھتا ہوں کہ ان کا سرپرست کون ہے ؟ انہوں نے کہا : ابو طالب ، چنانچہ وہ ابو طالب کو مسلسل قسمیں دیتا رہا یہاں تک کہ ابو طالب نے آپ کو واپس کر دیا ۔
۲۸۳۹۔ عن عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : کنا فی سفر مع النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و انا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع