30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگر اس کو داخل بہشت فرمائے۔
۳۳۰۶۔ عن عبادۃ بن الصامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : ان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خرج فقال : ان جبرئیل اتانی فقال : اخرج فحدث بنعمۃ اللہ التی انعم بہا علیک فبشرنی بعشر لم یوتہا نبی قبلی۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حجرۂ مقدسہ سے باہر تشریف لائے تو فرمایا : جبرئیل نے میرے پاس حاضر ہو کر عرض کی : باہر جلوہ فرما ئیے تاکہ اللہ تعالیٰ کے وہ احسان جو حضور پر کئے گئے بیان فرمائیں ، پھر مجھے دس فضیلتوں کا مژدہ دیا کہ مجھ سے پہلے کسی نے نہ پائیں۔
َََََََََََََََََََََََََََ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۳۰۵۔ المسند لا بی یعلی، ٭
۳۳۰۶۔ دلائل النبوۃ لا بی نعیم، ٭ التفسیر لا بن ابی حاتم،
{۲}امام احمدر ضامحدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
حدیث خصائص سے وہ حدیث ہے جس میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے خصائص جمیلہ ارشاد فرمائے ،جو کسی نبی وہ رسول نے نہ پائے اور ان کی وجہ سے اپنا تمام انبیاء اللہ پرتفضیل پانا ذکر فرمایا ، یہ روایت متواتر المعنی ہے ۔
امام قاضی عیاض نے شفا شریف میں اسے پانچ صحابہ کی روایت سے آنا بیان فرمایا ۔
ابو ذر ، ابن عمر، ابن عباس، ابو ہریرہ ، اور جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
پھر حدیث کے چار پانچ جملے متفرق نقل کئے ۔
علامہ قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں فتح الباری شرح صحیح البخاری امام علامہ ا بن حجر عسقلانی سے اخذ کر کے اس پر کلام لکھا جس میں احادیث حذیفہ و علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی طرف بھی اشارہ واقع ہوا ، مگر سوا حدیث جابر و ابو ہریرہ کہ صحیحین میں وارد ہے کوئی روایت پوری نقل نہ کی ۔
فقیر غفرلہ القدیر نے کتب کثیرہ کے مواضع متفرقہ قریبہ و بعیدہ سے اس کے طرق و روایات و شواہد و متابعات کو جمع کیا ، تو اس وقت کی نظر میں اسے چودہ صحابی کی روایت پایا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع