30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو ہر شخص یہ تمنا لئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا کہ جھنڈا اسے مل جائے ، حضور نے فرمایا : حضرت علی کہاں ہیں ؟ عرض کی : ان کی آنکھیں دکھ رہی ہیں ، فرمایا : ان کو بلا کر لاؤ ، چنانچہ آپ کی خدمت میں لایا گیا ، آپ نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن لگایا اور دعا کی ، اس کے بعد وہ اس طرح شفا یاب ہو گئے کہ انہیں یہ بیماری ہی نہیں ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۲۷۳۔ الجامع الصحیح للبخاری، باب مناقب علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم ، ۱/۵۲۵
الصحیح لمسلم ، باب من فضائل علی بن ابی طالب، ۲/۲۷۸
الجامع للترمذی، باب ماقب علی ابن طالب، ۲/۲۱۴
السنن لابن ماجہ ، باب فضل علی بن ابی طالب، ۱/۱۲
تھی ، پھر آپ نے انہیں جھنڈا مرحمت فرمایا ، حضرت علی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس وقت تک ان سے لڑتا رہوں جب تک وہ مسلمان نہ ہوجائیں ، فرمایا: خاموشی کے ساتھ جاؤ ، جب تم ان کے میدان میں اترو تو پہلے اسلام کی دعوت دینا اور اس کی طرف بلانا جو اللہ کا حق ان پر واجب ہے ۔ خدا کی قسم ! اگر تمہاری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دی تو یہ تمہارے لئے سر خ اونٹوں کے ہونے سے بہتر ہے ۔ ۱۲م
{۵} امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ بات قسم کی روش پر لام تاکید اور نون تاکید سے موکد کرکے بیان فرمائی ، تو حضور کو یقینا معلوم تھا ۔
یہ بات تمام ابواب سے زیادہ و سیع تر ہے ، تو ہر وہ چیز جس کی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خبر دی ، جنگوں ، فتنوں ، سیدنا مسیح کے اترنے ، امام مہدی کے ظاہر ہونے ، دجال ، یا جوج و ماجوج اور دابۃ الارض وغیرہ کے نکلنے سے جو بے شمار ہیں اسی باب سے ہیں۔ الدولۃ المکیۃ ۳۵۳
(۱۲) حضور کو اپنے وصال کا مقام اور وقت خوب معلوم تھا
۳۲۷۴۔ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم للانصارالکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم :المحیامحیاکم والممات مماتکم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع