30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرے ۔
سبحان اللہ اشرف المخلوقات محمد رسول کی اس کے دربار میں یہ حالت ہے کہ ایک گنوار کے منہ سے اتنی بات سنتے ہی مارے دہشت کے بے حواس ہوگئے اور عرش سے فرش تک جو اللہ کی عظمت بھرئی ہوئی ہے بیان کرنے لگے ۔
اقول : انبیاء اولیاء کو ذرۂ ناچیز سے کم تر کہنے کی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنا کہ حضور نے اسے یوں سمجھایا یہ تیرا افتراء ہے ،حدیث میں اس کا وجود نہیں ، اور محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بے حواس کہنا یہ تیری بیدینی کا ادنیٰ کرشمہ اور افتراء ہے، حدیث میں اس کا بھی نشا ن نہیں اور اللہ عزوجل کی عظمت اس کی صفت پاک اس کی ذات
اقدس سے قائم ہے مکان و محل سے منزہ ہے ،کیا جانے تو کس چیز کو خدا سمجھا ہے جس کی عظمت مکانوں مین بھری ہوئی ہے خیر یہ تو تیرے بائیں ہاتھ کے کھیل ہیں ۔
تیر بر جا ئے انبیاء انداز
طعن در حضرت الہی کن
بے ادب باش و آنچہ دانی گو
بے حیاباش و ہر چہ خواہی کن
مگر آنکھوں کی پٹی اتروا کر ذرا یہ سوچ کہ جو بات عظمت شان الہی کے خلاف ہو اسے سن کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ برتاؤ ہوتا ہے حالانکہ سفارشی ٹھہرانے کو یہ بات کہ اس کا مرتبہ اس سے کم ہے جس کے پاس اس کی سفارش لائی گئی ۔ ایسی صریح لازم نہیں جسے عام لوگ سمجھ لیں و لہذا وہ صحابہ اعرابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ باآنکہ اہل زبان تھے اس نکتے سے غافل رہے توکیا ممکن ہے کہ صریح شرک و کفر کے کلمے سنیں اور اصلا کوئی اثر غضب و جلال چہرۂ اقدس پر نمایاں نہ ہو، نہ حضور دیر تک سبحٰن اللہ سبحان اللہ کہیں ،نہ اہل مجلس کی حالت بدلے ،نہ ان کہنے والیوں پر کوئی مواخذہ ہو ،ایک آسان سی بات قناعت فرمائیں کہ اسے رہنے دو ،کیوں نہیں فرماتے کہ اری تم کفر بک رہی ہو ،اری تقویۃ الایمان کے حکم سے تم مشرکہ ہوگئیں ،تمہارا دین جاتا رہا ،تم مرتد ہوئیں ،از سر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع