30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس نے صاف کہہ دیا ۔
پھر خواہ یوں سمجھے کہ یہ بات ان کو اپنی ذات سے ہے خواہ اللہ کے دینے سے ہر طرح مشرک ہے ، اور خود مصرع مذکور کا مطلب ہی یوں بتایا کہ چھوکریاں کچھ گانے لگیں اس میں پیغمبر خدا کی تعریف یہ کہی کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے ایسا مرتبہ دیا ہے کہ آئندہ باتیں جانتے ہیں ، بایں ہمہ حدیث کو شرک فی العلم کی فصل میں لایا مگر جب حدیث میں حکم شرک کی اصلا بو نہ پائی تو خود ہی اپنے دعوے سے تنزل پر آیا اور صرف اتنا لکھنے پر بس کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۲۶۸۔ السنن لا بی داؤد، باب فی الغناء ۲/۶۷۴
السنن الکبری للبیہقی ۷/۲۸۹ ٭ الا تحافات السنیۃ، ۶/۵۵۸
مشکوۃ المصابیح للتبریزی، ۳۱۴۰ ٭ فتح الباری للعسقلانی، ۹/۲۰۲
شرح السنۃ للبغوی، ۹/۴۷ ٭
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی جناب میں یہ عقیدہ نہ رکھے کہ وہ غیب کی باتیں جانتے ہیں پیغمبر خدا نے اس قسم کا شعر اپنی تعریف کا انصار کی چھوکریوں کو گانے بھی نہ دیا چہ جائیکہ غافل مرد اس کو کہے یا سن کر پسند کرے ۔( تفویہ)
اللہ اللہ، اللہ کے دیئے سے بھی ایسا مرتبہ ماننا اس کے نزدیک شرک ہو تو شکایت نہیں کہ اس کے دھرم میں اس کا معبود کود ہی کسی کو آئندہ باتیں جاننے کا مرتبہ دینے پر قادرنہیں ، کیا اپنا شریک کسی کو بنا سکے گا، یونہی یہ امر بھی اسے مضر نہیں کہ انبیاء علیہم الصلاۃ و السلام کو بعطائے الٰہی بھی اطلاع علی الغیب کا مرتبہ نہ ملتا صریح مخالف قرآن عظیم ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ:۔
و ما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب و لکنّ اللہ یحبتی من رسلہ من یشآء ۔
اللہ اس لئے نہیں کہ تمہیں غیب پر اطلاع کا منصب دے ہاں اپنے رسولوں سے چن لیتا ہے جسے چاہے ۔
و قال اللہ تعالیٰ :۔
عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا ۔ الا من ارتضی من رسول ۔
غیب کا جاننے والا تو کسی کو اپنے غیب پر غالب و مسلط نہیں کرتا مگر وہ اپنے پسندیدہ رسولوں کو۔
یہاں ’’لا یظہر غیبہ علی احد ا‘‘نہ فرمایا کہ اللہ تعالی اپنا غیب کسی پر ظاہر نہیں فرماتا کہ اظہار غیب تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع