30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس وقت حضرت مالک بن عوف نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے عرض کی : میں نے تمام جہان کے لوگوں میں محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مثل کوئی نہ دیکھا نہ سنا ،سب سے زیادہ وفا فرمانے والے اور سب سے فزوں ترسائل کونفع اور کثیر عطا بخشنے والے ،اورجب تو چاہے تجھے آئندہ کل کی خبر بتادیں ۔صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔
سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہیں ان کی قوم ہوازن اور قبائل ثمالہ ،سلمہ اور فہم پر سردار فرمایا ۔ الامن والعلی ۲۰۷
CZCZCZCZCZCZC
(۱۰) حضور نے اپنی غیب دانی کے ذکر سے کیوں منع فرمایا
۳۲۶۸۔ عن ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت : جاء رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فدخل علیّ صبیحۃ بنیٰ بی فجلس علی فراشی کمجلسک منی ، فجعلت جویریات یضربن الدف لہن ویندبن من قتل من آبائی یوم بدرالی ان قالت احداہن وفینا نبی یعلم ما فی غد،فقال : دعی ہذا و قولی الذی کنت تقولین ۔
حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میری شادی میں تشریف لائے ،چھوکریاں دف بجاکر میرے باپ چچا جو بدر میں شہید ہوئے تھے ان کے اوصاف گاتی تھیں کہ اس میں کوئی بولی : ہم میں وہ نبی ہیں جنہیں آئندہ کا حال معلوم ہے ، (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم )اس پر سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے رہنے دو اور جو پہلے کہہ رہی تھی وہی کہے جا۔
{۳}امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اقول وباللہ التوفیق: امام الوہابیہ اس حدیث کو شرک فی العلم کی فصل میں لایا جسے کہا اس فصل میں ان آیتوں حدیثوں کا ذکر ہے جس سے اشراک فی العلم کی برائی ثابت ہوتی ہے ، تو وہ اس حدیث سے یہ بات ثابت کرنا چاہتا ہے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف آئندہ جاننے کی اسناد مطلقًا شرک ہے اگرچہ بعطائے الہی جانے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع