30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے کہ یہ استدلال ان ضلال کے خود اقرار ی کفر و ضلال کا تمغہ ہے ، نیز انہیں میںوہ روشن کیا کہ خلق کے لئے ادعائے علم غیب پر فقہاء کا حکم کفر بھی درجہ اولائے حقیقت حق میں اسی صورت علم ذاتی اور درجہ اخرائے طرز فقہاء میں علم مطلق بمعنی مرقوم کے ساتھ مخصوص ہے ، جیسا کہ محققین کے کلام میں منصوص ہے۔
بکر پر مکر کا وہ زعم مردود جس میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نسبت (کچھ نہیں جانتے )
کا لفظ ناپاک ہے کہ وہ بھی کلمہ کفرو ضلال بیباک ہے ، بکر نے جس عقیدے کو کفر و شرک کہا اور اس کے رد میں یہ کلام بد فرجام بکا ، خود اسی میں تصریح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو حضرت حق جل شانہ نے یہ علم عطا فرمایا ہے لا جرم بکر کی یہ نفی مطلق شامل علم عطائی بھی ہے اور خود بعض شیاطین الانس کے قول سے استناد بھی اس تعلیم پر دلیل جلی ہے کہ اس قول میں خواہ یوں اور خواہ یوں ، دونوں صورت پر حکم شرک دیا ہے ۔ اب اس لفظ قبیح کے کلمۂ کفر صریح ہونے میں کیا تامل ہو سکتا ہے ۔ قرآن عظیم کی روشن آیتوں کی تکذیب بلکہ سارے قرآن کی تکذیب رسالت نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا انکار بلکہ نبوت تمام انبیاء کا انکار ، سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تنقیص مکان بلکہ رب العزۃ جل جلالہ کی توہین شان ، ایک دو کفر ہوں تو گنے جائیں ، و العیاذ باللہ رب العالمین ۔
۳۲۵۱۔ عنحذیفۃ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قام فینا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مقاما ما ترک شیئا الی قیام الساعۃ الا حدث بہ۔
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک دن ہم میں خطبہ دینے کھڑے ہوئے تو حضور نے وقت قیام سے روز قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا کچھ نہ چھوڑا سب بیان فرمادیا ۔ الدولۃ المکیۃ ۲۲۹
(۲) حضور کے لئے آسمان و زمین کی تمام چیزیں روشن ہوگئیں
۳۲۵۲۔ عن معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : انی نعست فاستثقلت نوما فرأیت ربی فی احسن صورۃ فقال : فیم یختصم الملأ الا علیٰ و الحدیث بطولہ عن ابن عباس۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع