30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تسمع الکل کالمشاہد ۔
پاکیزہ جانیں جب بدن کے علاقوں سے جدا ہو کر عالم بالا سے ملتی ہیں ان کے لئے کوئی پردہ نہٰیں رہتا ۔ وہ ہر چیز کو ایسا دیکھتی اور سنتی ہیں جیسے پاس حاضر ہیں۔
اما م ابن الحاج مکی مدخل اور امام قسطلانی مواہب میں فرماتے ہیں : ۔
قد قال علماء نا رحمہم اللہ تعالیٰ لا فرق بین موتہ و حیاتہ صلی اللہ
تعالیٰ علیہ وسلم فی مشاہدتہ لامتہ و معرفتہ باحوالہم و نیاتہم و عزائہم و خواطرہم و ذلک جلی عندہ لا خفاء نہ۔
بیشک ہمارے علمائے کرام رحمہم اللہ تعالی نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیات دنیوی اور اس وقت کی حالت میں کچھ فرق نہیں اس بات میں کہ حضور اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں ۔ ان کے ہر حال ان کی ہر نیت ان کے ارادے ان کے دلوں کے خطرے کو پہچانتے ہیں اور یہ سب چیزیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ایسی روشن ہیں جن میں اصلا کسی طرح کی پوشیدگی نہیں ۔
یہ عقیدے ہیں علمائے ربانیین کے محمد رسول اللہ کی جناب ارفع میں جل جلالہ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
شیخ شیوخ علمائے ہند مولاناشیخ محقق نور اللہ تعالی مرقدہ الکرم مدار ج شریف میں فرماتے ہیں ـ:۔
ذکر کن او را د درود و بفرست بروئے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، و باش در حال ذکر گویا حاضر ہست پیش تو در حالت حیات و می بینی تو او را متادب با جلال و تعظیم و ہیبت و امید بداں کے وے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم می بیند و می شنو د کلام ترا زیر اکہ وے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم متصف است بصفات اللہ و یکے از صفات الہی آنست کہ انا جلیس من ذکرنی۔
اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں شیخ محقق پر ، جب نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ہمارا دیکھنا ذکر کیا ۔ گویا فرمایا : اور جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دیکھناہمیں بیان کیا ۔ بدانکہ بڑھایا۔ تاکہ اسے کوئی گویا کہ نیچے داخل نہ سمجھے ،غرض ایمانی نگاہوں کے سامنے اس حدیث پاک کی تصویر کھینج دی کہ ۔
اعبد اللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک ۔
اللہ تعالی کی عبادت کر، گویا تو اسے دیکھ رہا اور اگر تو اسے نہ دیکھے تو وہ یقینا تجھے دیکھتا ہے ۔ (جل جلالہ و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع