30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳۲۴۵۔ الخصائص الکبری للسیوطی، ۱/۱۷۹ ٭
۳۲۴۶۔ مجمع الزوائد للہیثمی، ۸/۲۸۰ ٭
۳۲۴۷۔ کنز العمال للمتقی، ۳۵۴۳۶، ۱۲/۳۹۶ ٭
۳۲۴۸۔ کنز العمال للمتقی، ۳۵۴۹۲، ۱۲/۴۲۹ ٭
تعالیٰ علیہ وسلم ، فتبینت الابرۃ بشعاع نور وجہہ فضحکت ، فقال : یا حمیرآء !لم ضحکت ؟ قلت : کان کیت و کیت ، فنادی باعلی صوتہ : یا عائشۃ ! الویل ثم الویل لمن حرم النظر الی ہذا الوجہ ، ما من مومن و لا کافر الا یشتہی ان ینظر الی وجہی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں حفصہ بنت رواحہ سے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک کپڑے سینے کے لئے سوئی مانگ کر لائی ، حجرۂ مقدسہ میں بیٹھی سیتی تھی کہ سوئی گرپڑی ، تلاش کی نہ ملی ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لائے ، حضور کے نور رخ کی شعاع سے سوئی ظاہر ہوگئی ۔
یہ ماجرا دیکھ کر مجھے بیساختہ ہنسی آگئی ، فرمایا : اے حمیرا ! کیا بات ہے ، کیوں ہنستی ہو؟ عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسا ایسا واقعہ ہوا ، حضور نے بآواز بلندندا فرمائی ، اے عائشہ سنو !خرابی و محرومی ہے اس کے لئے جو اس چہرے کو دیکھنے سے محروم رہتا ہے ، ہر مومن و کافر کی ایک مرتبہ دیدار کے بعد یہ ہی خواہش رہتی ہے کہ وہ بار بار دیکھتا رہے ۔
{۴} امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
علامہ فاسی مطالع المسرات میں علامہ ابن سبع سے نقل کر کے فرماتے ہیں :۔
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نور سے خانۂ تاریک روشن ہو جاتا ۔
اب نہیں معلوم کہ حضور کے لئے سایہ ثابت نہ ہونے سے کلام کرنے والا ٓپ کے نور ہونے کا انکار کرے گا یانور کے لئے بھی سایہ مانے گا ۔
یا مختصر طور پر یوں کہیئے کہ یہ تو بالیقین معلوم کہ سایہ جسم کثیف کا پڑتا ہے نہ جسم لطیف کا ، اب مخالف سے پوچھنا چاہیئے ، تیرا ایمان گواہی دیتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا جسم اقدس لطیف نہ تھا ، عیاذ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع