30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳۲۳۹۔ الجامع للترمذی، باب ما جاء فی من یموت و ہو یشہد ان لا الہ الا اللہ ۲/۸۸
المستدرک للحاکم ۱/۶ ٭ الصحیح لابن حبان ، ۲۵۲۴
کنز العمال للمتقی ، ۱۰۹، ۱/۴۴ ٭ شرح السنۃ للبغوی، ۱۵/۱۳۴
پیدا کیا یعنی عین ذات کی تجلی بلا واسطہ ہمارے حضور ہیں ، باقی سب ہمارے حضور کے نور و ظہور ہیں ۔
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و علیٰ آلہ و صحبہ و بارک و کرم۔
صلات الصفا ۔ ۷ تا ۳۴ ملخصا
(۲) حضور کا نور سب پر غالب تھا
۳۲۴۰۔ عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : لم یکن لرسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ظل، و لم یقم مع شمس قط الا غلب ضوء ہ ضوء الشمس ، و لم یقم مع السراج قط الا غلب ضوء ہ علی ضوء السراج ۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھا ، اور نہ کھڑے ہوئے آفتاب کے سامنے مگر یہ کہ ان کا نور عالم افروز خورشید کی روشنی پر غالب آگیا ، اور نہ قیام فرمایا چراغ کی ضیا میں مگر یہ کہ حضور کی تابش نور نے اس کی چمک کو دبا دیا ۔ لفی الفیٔ ۵۲
(۳) حضور سراپا نور تھے
۳۲۴۱۔ عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اللہم! اجعل فی قلبی نورا ، و فی بصری نورا و فی سمعی نورا و فی عصبی نورا و فی لحمی نورا و فی دمی نورا و فی شعری نورا و فی بشری نورا و عن یمینی نورا و عن شمالی نورا و امامی نورا و خلفی نورا و فوقی نورا وتحتی نورا و اجعلنی نورا۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خدا وند قدوس کی بارگاہ میں یوں دعا کی : الٰہی !میرے دل اور جان ، میری آنکھ اور میرے کان ، میرے گوشت و پوست و استخواں ، اور میرے زیر و بالا و پس وپیش اور ہر عضوء میں نور اور خود مجھے نور کردے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع