30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیسے ہو گیا کہ ان کو وزن کیا جائے گا ۔
جواب یہ ہے کہ بایں معنی کہا گیا ہے کہ کاغذ اور صحیفے تولے جائیں گے جیسا کہ حدیث میں آیا ۔
۳۲۳۹۔ عن عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ان اللہ سیخلص رجلا من امتی علی راس الخلائق یوم القیامۃ ،فینشر علیہ تسعۃ و تسعین سجلا ، کل سجل مثل مد البصر ، ثم یقول : اتنکر من ہذا شیئا ؟ اظلمک کتبنی الحافظون ؟ فیقول : لا یا رب ! فیقول ؟ افلک عذر؟ قال : لا یا رب ! فیقول : بلیٰ ان لک عندنا حسنۃ ، وانہ لا ظلم علیک الیوم ، فتخرج بطاقۃ فیہا ، اشہد ان الا الہ الا اللہ وان محمدا عبدہ و رسولہ ، فیقول : احضر وزنک فیقول : یا رب ! ما ہذہ البطاقۃ مع ہذہ السجلات، فیقول : انک لا تظلم ، قال : فتوضع السجلات فی کفۃ و البطاقۃ فی کفۃ ، فطاشت السجلات و ثقلت البطاقۃ فلا یثقل مع اسم اللہ شیٔ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ میری امت سے ایک شخص کو چن لے گا ، پھر اس کے سامنے کہا جائے گا ، کیا تو اس سے انکار کرتا ہے ؟ یا میرے فرشتوں کراماً کاتبین نے تجھ پر ظلم کیا ؟وہ کہے گا: اے میرے رب! نہیں ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے ؟ بندہ کہے گا : نہیں ، اللہ تعالیٰ پھر فرمائے گا : ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے ، آج تجھ پر ظلم نہیں ہوگا ، پھر ایک کاغذ نکالا جائے گا جس پر کلمۂ شہادت لکھا ہو گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اس کا وزن کر ، بندہ عرض کرے گا : ان رجسٹروں کے سامنے اس کاغذ کی کیا حیثیت ہے ؟ اللہ تعالی فرمائے گا : تم پر ظلم نہیں ہوگا ۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : پھر ایک پلڑے میں ننانوے رجسٹر رکھے جائیں گے اور دوسرے میں وہ کاغذ ۔ چنانچہ رجسٹروں کا پلڑا ہلکا ہوگا اور کاغذ کا بھاری، اور اللہ تعالیٰ کے نام کے مقابلہ میں کوئی چیز وزنی نہ ہوگی ۔
]۲[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اما م احمد ، ترمذی، ابن حبان، اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا بالجملہ حاصل حدیث نور یہ ٹھہرا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات پاک کو اپنی ذات کریم سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع