30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وجود کے ستون ڈھے جائیں ، تو حضور ہی پہلے موجود ہوئے اور تمام جہاں حضور کا طفیلی اور حضور سے وابستہ ہوا جسے کسی طرح حضور سے بے نیازی نہیں ۔
ان مضامین جمیلہ پر بکثرت ائمۂ و علماء کے نصوص جلیلہ فقیر کے رسالہ ’’ سلطنۃ المصطفیٰ فی ملکوت کل الوری ‘‘میں ہے ، و للہ الحمد
اقول خامساً: ہماری تقریر سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ حضور خود نور ہیں تو حدیث مذکور میں ’’ نور نبیک ‘‘ کی اضافت بھی ’’من نورہ‘‘ کی طرح بیانیہ ہے ۔
سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اظہار نعمت الٰہیہ کے لئے عرض کی: واجعلنی نورا، اور خود رب العزت عز جلالہ نے قرآن عظیم میں ان کو نور فرمایا:
قد جآء کم من اللہ نور و کتاب مبین۔
پھر حضور کے نور ہونے میں کیا شبہ رہا ۔
اقولـ: اگر ’’نور نبیک ‘‘ میں اضافت بیانیہ نہ لو بلکہ نور سے وہی معنی مشہور یعنی روشنی کہ عرض و کیفیت ہے مراد تو سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اول مخلوق نہ ہوئے بلکہ ایک عرض و صفت ،پھر وجود موصوف سے پہلے صفت کا وجود کیونکر ممکن ؟ لا جرم حضور ہی خود وہ نور ہیں کہ سب سے پہلے مخلوق ہوا۔
تو اب علامہ زرقانی کے اس قول کی حاجت نہ رہی کہ یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ نور عرض ہے ، قائم بذاتیہ نہیں ، کیونکہ جواب میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ خرق عادت ہے ۔
کیونکہ وجہ اس کی یہ ہے کہ صفت کا وجود بغیر موصوف سمجھ میں نہیں آسکتا ۔ اس لئے کہ صفت کی دوہی صورتیں ہیں یا تو موصوف کے غیر کے ساتھ قائم ہوگی تو موصوف کی صفت نہ ہوگی بلکہ غیر کی ہوگی اور اگر قائم بنفسہا ہو تو صفت ہی نہ ہوئی ، کیونکہ صفت اسے کہتے ہیں جو غیر کے ساتھ قائم ہو ۔ جب وہ قائم بنفسہا ہو تو وہ نہ صفت ہوئی اور نہ ہی عرض بلکہ وہ جو ہر ہوئی ۔ اور یہ کہنا کہ وہ عرض ہے اور قائم بنفسہ بھی ہے تو یہ اجتماع ضدین ہے اور یہ باطل ، اور قدرت الٰہیہ محالات عقلیہ سے متعلق نہیں ہوتی۔
ہاں ایک سوال یہ کیا جا سکتا ہے کہ آخرت میں وزن اعمال ہو گا اور یہ اعراض و صفات ہیں تو ان کا قیام بنفسہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع