30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ وہی تشبیہ و تقریر ہے جو ہم نے ذکر کی ، وہاں ذات کریم و افاضۂ انوار کا ذکر تھا ، لہذا آفتاب سے تمثیل دی ، یہاں صفات کریمہ کا بیان ہے لہذا ستاروں سے تشبیہ مناسب ہوئی ۔
مطالع المسرات شریف میں ہے
اسمہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم محی حیوۃ جمیع الکون بہ صلی اللہ
تعالیٰ علیہ وسلم فہو روحہ و حیوتہ و سبب وجودہ و بقائہ ۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام پاک محی ہے زندہ فرمانے والے ، اس لئے کہ سارے جہان کی زندگی حضور سے ہے ، تو حضور تمام عالم کی جان و زندگی اور اس کے وجود وبقاء کے سبب ہیں ۔
اسی میں ہے
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام عالم کی جان و حیات و سبب وجود ہیں ، حضور نہ ہوں تو عالم نیست و نابود ہوجائے ، کہ حضرت سیدی عبد السلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : کہ عالم میں کوئی ایسا نہیں جو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ نہ ہو، اس لئے کہ واسطہ نہ رہے تو جو اس کے واسطہ سے تھا آپ ہی فنا ہو جائے۔
ہمزیہ شریف میں فرمایا :
کل فضل فی العالمین فمن فضل ٭ النبی باستعارۃ الفضلاء
جہاں والوں میں جو خوبی جس کسی میں ہے وہ اس نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فضل سے مانگے کولی ہے ۔
امام ابن حجر مکی افضل القریٰ میں فرماتے ہیں :
تمام جہان کی امداد کرنے والے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں ، اس لئے کہ حضور ہی بارگا ہ الہی کے وارث ہیں، بلا واسطہ خدا سے حضور ہی مدد لیتے ہیں ، اور تمام عالم مدد الہی حضور کی وساطت سے لیتا ہے ، تو جس کامل کو جو خوبی ملی وہ حضور ہی کی مدد اور حضور ہی کے ہاتھ سے ملی ۔
شرح سید عشماوی میں فرماتے ہیں :
کوئی موجود دو نعمتوں سے خالی نہیں نعمت ایجاد ، نعمت امداد ، اور ان دونوں میں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہی واسطہ ہیں کہ حضور پہلے موجود نہ ہولیتے تو کوئی چیز ووجود نہ پاتی ، اور عالم کے اندر حضور کا نور موجود نہ ہو تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع