30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمائے ۔ آمین ۔
اس تقریر منیر سے مقاصد مذکورہ کے سوا چند فائدے اور حاصل ہوئے ۔
اقول :
اول : یہ بھی روشن ہوگیا کہ تمام عالم نور محمدی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کیونکر بنا ، بے
اس کے کہ نور حضور تقسیم ہوایا اس کا کوئی حصہ ایں و آں بنا ہو۔ اور یہ کہ وہ جو حدیث میں ارشاد ہوا کہ پھر اس نور کے چار حصے کئے تین سے قلم ولوح و عرش بنائے ، چوتھے کے پھر چار حصے کئے الی آخرہ۔ یہ اس کی شعاعوں کا انقسام جیسے ہزارا ٓئینوں میں آفتاب کا نور چمکے تو وہ ہزار حصوں میں منقسم نظر آئے گا حالانکہ آفتاب نہ منقسم ہوا نہ اس کا کوئی حصہ آئینوں میں آیا ۔
اس تقریر سے علامہ شر ابلسی کا اعتراض بھی ختم ہوگیا ، اعتراض اس طرح تھا ۔
اعتراضـ:- حقیقت واحدہ تقسیم نہیں ہوتی ، کیونکہ حقیقت محمدیہ ان اقسام میں ایک قسم ہے ، اور اگر باقی اقسام اسی حقیقت سے ہیں تو یہ حقیقت تقسیم ہوگئی ، اور اگر باقی چیزیں اس حقیقیت کی غیر ہیں تو انقسام کا کیا مطلب ، پھر علامہ نے خود ہی جواب دیا اور علامہ زرقانی نے ان کی اتباع کی ۔
جواب: - حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں اضافہ کیا نہ کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نور کو تقسیم کیا ، کیوں کہ یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک ایسی صورت مثالی عطا کی جس پر حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تخلیق ہوئی تھی ، تو اسے تقسیم نہیں کہا جائے گا ۔
ان کے جواب کا خلاصہ جسے ان کے شاگرد علامہ عیاشی نے بیان کیا یہ ہے کہ انقسام کا معنی نور محمدی پر اضافے کے ہیں اس طرح آخری تقسیم تک سلسلہ جاری رہا ۔
عیاشی نے کہا: ظاہر کے لحاظ سے یہ جواب کافی ہے اور تحقیق اس کے علاوہ اللہ خوب جانتا ہے ۔
اقول اولا: انہوں نے اس مسئلہ میں اپنے شیخ شبراملسی کی پیروی کی لیکن حق یہ ہے کہ یہ ایک بے معنی بات ہے ، کیونکہ اس صورت میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نور سے تخلیق کائنات نہ ہوگی ، یہ نص اور مراد کے خلاف بات ہے ۔
ہاں اس کا جواب یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے نور کو پہلی شعاع سے زائد شعاع عطا کی پھر اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع