30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واسطوں کی کمی بیشی کے اعتبار سے ہر چیز اپنی استعداد کے مطابق چمک اٹھی اور تمام حقائق و اقسام اس نور کی چمک سے اس کے مظہر بن گئے ، یوں وجود میں آنے والا پہلا نور ایک تھا لیکن اس کی چمک سے دوسرے حقائق بھی اپنی حقیقت کے مطابق اس نور سے منور ہوتے چلے گئے اور کائنات میں نور در نور بن گئے جبکہ وجود حادث میں نور کی صرف دو ہی قسمیں ہیں ۔
ایک فیض دینے والا دوسرا فیض پانے والا ۔ حالانکہ نفس الامری حقیقت میں یہ دونوں
نور ایک ہی ہیں ، یہ ایک واقعی نور ہی قابل اشیاء میں چمک پیدا کر کے متعدد مظاہر میں ظاہر ہوتا ہے اور تمام اجسام میں ہر قسم کی صورت میںچمکتا ہے ، اسی طرح فیض یافتہ نور بھی اپنی استعداد کے مطابق دوسری قابل اشیاء میں چمک پیدا کر کے ان کو منور کرتا ہے ، جس سے مزید مظاہرات کی اقسام حاصل ہوتی ہیں ، جبکہ یہ تمام انوار بالواسطہ یا بلا واسطہ سب سے پہلے نور حادث سے ہی مستفیض ہیں۔
اس تقریر کے لئے یہ انتہائی محتاط عبارت ہے جو علوم الٰہیہ کے موافق ہے ، اس سے زائد عبارت خطرناک ہو سکتی ہے ۔
اس تقریر کے مناسب مثال وہ چراغ ہے جس سے بے شمار چراغ روشن ہوئے ، اس کے با وجود وہ اپنی اصل حالت پر ہے اور اس کے نور میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ۔
مزید واضح مثال سورج ہے جس سے تمام سیارے روشن ہیں جن کا اپنا کوئی نور نہیں ۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ سورج کا نور ان سیاروں میں منقسم ہوگیا ہے جبکہ فی الواقع ان سیاروں میں سورج ہی کا نور ہے جو سورج سے نہ تو جدا ہو اور نہ کم ہوا ۔ سیارے تو صرف اپنی قابلیت کی بنا پر چمک اور سورج کی روشنی سے منور ہوئے ۔
مزید سمجھنے کے لئے پانی اور شیشے پر پڑنے والی سورج کی شعاؤں کو دکھا جائے جن کا عکس پانی یا شیشے کے بالمقابل دیوار پر پڑتا ہے جس سے دیوار روشن ہو جاتی ہے ، دیوار پر یہ روشنی سورج ہی کا نور ہے ۔
جب اللہ تعالیٰ کسی کے قلب کو حجاب غفلت سے پاک کرتا ہے اور وہ دل انوار محمدیہ سے منور ہوتا ہے تو پھر اس کا ادراک ایسا کامل ہو جاتا ہے کہ اس میں شک اور وہم کا احتمال نہیں ہوتا ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری بصیرت کو اپنے علم کے نور سے منور فرمائے ، اور ہمارے باطن کو جہالت کے اندھیروں سے محفوظ فرمائے ، اور جن امور میں ہم غور کرنے کے اہل نہیں ان پر ہماری جسارت کو معاف فرمائے ،اور اس جناب میں ہماری عبارت کی کوتاہیوں پر مواخذہ نہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع