30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگر محمد نہ ہوتے تو میں نہ تمہیں بناتا ، نہ زمین ، نہ آسمان ۔
تو سارا جہاں ذات الہی سے بواسطۂ حضور صاحب لولاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پیدا ہوا ۔ یعنی حضور کے واسطے ، حضور کے صدقہ ، حضور کے طفیل میں ۔
یہ نہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اللہ سے وجود حاصل کیا پھر باقی مخلوق کو آپ نے وجود دیا ، جیسے فلاسفہ کافر گمان کرتے ہیں کہ عقول کے واسطے سے اور ان کے وجود بخشنے سے دوسری چیزیں پیدا ہوتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کے اس قول سے بلند و بالا ہے ،کیا اللہ تعالیٰ کے
علاوہ بھی کوئی خالق ہو سکتا ہے ۔
بخلاف ہمارے حضور عین النور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کہ وہ کسی کے طفیل میں نہیں ، اپنے رب کے سوا کسی کے واسطے نہیں ، تو وہ ذات الہی سے بلا واسطہ پیدا ہیں ۔
زرقانی شریف میں ہے
اس نور سے جو اللہ کی ذات ہے ، یہ مقصد نہیں کہ وہ کوئی مادہ ہے جس سے آپ کا نور پیدا ہو ا بلکہ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ آپ کے نور سے بلا کسی واسطہ فی الوجود کے متعلق ہوا۔
یا زیادہ سے زیادہ بغر ض توضیح ایک کمال ناقص مثال یوں خیال کیجئے ، کہ آفتاب نے ایک عظیم و جمیل و جلیل آئینہ پر تجلی کی ، آئینہ چمک اٹھا، اور اس کے نور سے اور آئینے اور پانیوں کے چشمے اور ہوائیں ،اور سائے ہوئے آئینوں اور چشموں میں صرف ظہور نہیں بلکہ اپنی اپنی استعداد کے لائق شعاع بھی پیدا ہوئی کہ اور چیز کو روشن کر سکے کچھ دیواروں پر دھوپ پڑی ،یہ کیفیت نور سے متکیف ہیں اگر چہ اور کو روشن نہ کریں جن تک دھوپ بھی نہ پہونچی، وہ ہوائے متوسط نے ظاہر کیں ، جیسے دن میں مسقف دالان کی اندرونی دیواریں ان کا حصہ صرف اسی قدر
ہوا ، کیفیت نور سے بہرہ نہ پایا۔
پہلا آئینہ خود ذات آفتاب سے بلا واسطہ روشن ہے اور باقی آئینے ،چشمے اس کے واسطے سے ، اور دیواریں وغیرہا واسطہ در واسطہ ، پھر جس طرح وہ نور کہ آئینہ اول پر پڑا بعینہ آفتاب کا نور ہے بغیر اس کے کہ آفتاب خود یا اس کا کوئی حصہ آئینہ ہوگیا ہو، یونہی باقی آئینے اور چشمے کہ اس آئینے سے روشن در روشن ہوئے اور دیواروغیرہ اشیاء پر ان کی دھوپ پڑی یا صرف ظاہر ہوئی ان سب پر بھی یقینا آفتاب ہی کا نور اور اسی سے ظہور ہے ، آئینے اور چشمے فقط واسطۂ وصول
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع