30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرح علامہ میں فرماتے ہیں:۔
مرتبہ احادیت ذات کا پہلا تعین اور پہلا مرتبہ ہے جس میں غیر ذات کا اصلالحاظ نہیں ، جس کی طرف حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں اشارہ ہے ، کہ اللہ تعالیٰ تھا اور اس کے ساتھ کچھ نہ تھا ، اسے سیدی کا شانی قدس سرہ نے ذکر فرمایا ۔
شیخ محقق مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں :۔
انبیاء اللہ تعالیٰ کے اسمائے ذاتیہ سے پیدا ہوئے اور اولیاء اسمائے صفاتیہ سے ، بقیہ
کائنات صفات فعلیہ سے ، اور سید رسل ذات حق سے اور حق کا ظہور بالذات ہے ۔
ہاں عین ذات الہی سے پیدا ہونے کے یہ معنی نہیں کہ معاذ اللہ ذات الہی ذات رسالت کے لئے مادہ ہے ، جیسے مٹی سے انسان پیدا ہوا ۔ یا عیاذا ً باللہ ذات الہی کا کوئی حصہ یا کل ذات بنی ہوگیا ، اللہ عزوجل حصے اور ٹکڑے اور کسی کے ساتھ متحد ہوجانے یا کسی شیٔ میں حلول فرمانے سے پاک و منزہ ہے ۔
حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خواہ کسی شیٔ کو جزء ذات الہی خواہ کسی مخلوق کو عین و نفس ذات الہی ماننا کفر ہے ۔
اس تخلیق کے اصل معنی تو اللہ و رسول جانیں ، جل و علا و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔ عالم میں ذات رسول کو کوئی پہچانتا نہیں ۔
حدیث میں ہے :یا ابابکر ! لم یعرفنی حقیقۃ غیر ربی
اے ابو بکر! مجھے جیسا میں حقیقت میں ہوں میرے رب کے سوا کسی نے نہ جانا ۔
ذات الہی سے اس کے پیدا ہونے کی حقیقت کسے مفہوم ہو ، مگر اس میں فہم ظاہر بیں کا جتنا حصہ ہے وہ یہ ہے کہ حضرت حق عز جلالہ نے تمام جہان کو حضور پر نور محبوب اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے واسطے پیدا فرمایا۔ حضور نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا ۔
لولاک ما خلقت الدنیا ۔
اگر آپ کو پیدا کرنا منظور نہ ہوتا میں دنیا کو پیدا نہ کرتا۔
حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ و السلام سے ارشاد ہوا ۔
لولا محمد ماخلقتک و لا ارضا و لا سماء
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع