30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ اگر چودھویں رات کے کامل چاند کے برابر نوے ہزار چاند ہوں تو روشنی آفتاب تک پہونچیں گے، و اللہ تعالیٰ اعلم۔
نور عرف عامہ میں ایک کیفیت ہے کہ نگاہ پہلے اسے ادراک کرتی ہے اور اس کے واسطہ سے دوسری اشیائے دیدنی کو ، اور حق یہ ہے کہ نور اس سے اجلی ہے کہ اس کی تعریف کی جائے ، یہ جو بیان ہوا تعریف الجلی بالخفی ہے ، کما نبہ علیہ فی المواقف و شرحہا نور بایں معنی ایک عرض و حادث ہے اور رب عزوجل اس سے منزہ ہے ۔
محققین کے نزدیک نور وہ کہ خود ظاہر ہو اور دوسروں کا مظہر ۔
کماذکرہ الامام حجۃالاسلام الغزالی ثم العلامۃ الزرقانی فی شرح المواہب الشریفۃ ۔
بایں معنی اللہ عزوجل نور حقیقی ہے بلکہ حقیقۃ ًوہی نور ہے اور کریمہ ’’ اللہ نور السموٰت و الارض ‘‘ بلا تکلف و بلا تاویل اپنے معنی حقیقی پر ہے ۔ فان اللہ عزوجل ہو الظاہر بنفسہ المظہر بغیرہ من السموٰت و الارض و من فیہن و سائر المخلوقات ۔
حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بلا شبہ اللہ عزوجل کے نور ذاتی سے پیداہیں۔
حدیث میں ’’ نورہ ‘‘ فرمایا ، جس کی ضمیر اللہ کی طرف ہے ، کہ اس میں ذات ہے ، ’’من نور جمالہ ‘‘ یا، من نور رحمتہ ، وغیرہ نہ فرمایا کہ نور صفات سے تخلیق ہو۔
علامہ زرقانی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں :۔
من نورہ ای من نور ہو ذاتہ۔
یعنی اللہ عزوجل نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس نور سے پیدا کیا جو عین ذات الہی ہے ۔ یعنی اپنی ذات سے بلا واسطہ پیدا فرمایا۔
اما م احمد قسطلانی موا ہب شریفہ میں فرماتے ہیں :۔
لما تعلقت ارادہ الحق تعالیٰ بایجاد خلقہ ابرز الحقیقۃ المحمدیۃ من الانوار الصمدیۃ فی الحضرۃ الاحدیۃ ، ثم سلخ منہا العوالم کلہا علوہا و سفلہا۔
جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کا پیدا کرنا چاہا ، صمدی نوروں سے مرتبہ ذات صرف میں حقیقت محمدیہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ظاہر فرمایا، پھر اس سے تمام عالم علوی و سفلی نکالے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع