30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذاتی میں حصر عطائی کی نفی کرے ۔
قال اللہ تعالیٰ
فلم تقتلوھم ولکن اللہ قتلھم
ومارمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی
اور جب بحمد اللہ تعالیٰ خود حدیث سے ہم (ماشاء اللہ ثم شاء فلان ) کی طرح ماشاء اللہ ثم
شاء محمد صلی اللہ علیہ ،کی بھی اجازت دکھا چکے تو اب اصلا ہمیں ان نکات وتوجیہات کی حاجت نہ رہی جو شراح نے اس روایت منقطعہ اور اصل حدیث مستقل میں بظاہر ایک نوع تغایر کے لحاظ سے ذکر کئے ہیں ۔
شیخ محقق نے یہاں یہ نکتہ ذکر فرمایا:
دریں جا غایت بندگی وتواضع وتوحید ست ۔ زیراکہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم درغیر خود اسناد مشیت اگرچہ بطریق تاخر وتبعیت باشد تجویز کرد ۔اما در حق خودبآں نیز راضی نہ شد بلکہ امر کرد باسناد مشیت بہ پرور دگار تعالیٰ تنہا بے توہم شرکت ۔
یہاں نہایت بندگی اور تواضع وتوحید کا اظہار مقصود ہے ،اس لئے کہ حضور نے اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع کرکے غیر خداکے لئے مشیت کو جائز قرار دیا ہے لیکن اپنے لئے اس کو بھی منع فرمادیا کہ کسی کو شرک کا وہم نہ ہو جائے ۔
اقول : یہ توجیہ بھی شرک امام الوہابیہ کی کیفر چشانی کو بس ہے ۔ سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تو اضعا اپنی مشیت کا ذکر نہ کرنے کو فرمایا اوروں کے ذکر مشیت کی اجازت دی،اگر شرک ہو تو معاذاللہ یہ ٹھرے گی کہ حضور نے اپنی ذات کریم کو شریک خدا کرنے سے منع فرمایا اور زید وعمروکو شریک کردینا جائز رکھا ۔
علامہ طیبی نے ایک اور توجیہ لطیف ودقیق کی طرف اشارہ کیا ہے کہ
انہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رأس الموحدین ،ومشیتہ معمورۃ فی مشیۃ اللہ تعالیٰ ومضمحلۃ فیھا ۔
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سردار موحدین ہیں اور حضور کی مشیت اللہ عزوجل کی مشیت میں مستغرق وگم ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع