30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعتراض کرتا ہے ، لہذا چھوڑدو ، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
خامساً ۔ ان سب وقتوں کے بعد جو تعلیم فرمائی وہ بھی ہماں در کاسۂ لائی ارشاد ہوا کہ یوں کہا کرو : جو چاہے اللہ پھر چاہیں محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تو یہ کام ہوگا ۔
امام الوہابیہ کے الفاظ یاد کیجیئے ۔
یہ خاص اللہ کی شان ہے اس میں کسی مخلوق کو دخل نہیں ، رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔ تفویۃ الایمان
مسلمانو ! للہ انصاف ،جو بات خاص شان الہی عزوجل ہے ،جس میں کسی مخلوق کو کچھ
دخل نہیں ، اس میں دوسرے کو خدا کے ساتھ (اور ) کہہ کر ملایا تو کیا ،اور’’(پھر ‘‘) کہکر ملایا تو کیا، شرک سے کیونکر نجات ہوجائیگی ۔ مثلا
آسمان وزمین کا خالق ہونا ، اپنی ذاتی قدرت سے تمام اولین وآخرین کا رازق ہونا خاص خدا کی شانیں ہیں ، کیا اگر کوئی یوں کہے : کہ اللہ ورسول خالق السٰموات والارض ہیں ،اللہ ورسول اپنی ذاتی قدرت سے رازق عالم ہیں ،جبھی شرک ہوگا ۔اور اگر کہے : کہ اللہ پھر رسول خالق السموات والارض ہیں ،اللہ پھر رسول اپنی ذاتی قدرت سے رزاق جہاں ہیں ،تو شرک نہ ہوگا ۔
مسلمانو ! گمراہوں کے امتحان کے لئے ان کے سامنے یونہی کہہ دیکھو کہ اللہ پھر رسول عالم الغیب ہیں ،اللہ پھر رسول نے ہماری مشکلیں کھول دیں ، دیکھو تو یہ حکم شرک جڑتے ہیں یا نہیں ۔ اسی لئے تو یہ عیار مشکوۃ کی اس حدیث متصل صحیح ابی داؤد کی میر بحری بچاگیا تھا جس میں لفظ پھر کے ساتھ اجازت ارشاد ہوئی ۔ تو ثابت ہوا کہ اس مرد ک کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہودی کا اعتراض پاکر بھی جو تبدیلی کی وہ خود شرک کی شرک ہی رہی ۔
مسلمانو! یہ حاصل ہے رسول کی جناب میں اس گستاخ کے اعتقاد کا ۔ وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۔یہ تو ان کے طور پر نتیجۃً احادیث تھا ، ہم اہل حق کے طور پر پوچھو تو۔
اقول ۔وباللہ التوفیق ۔بحمداللہ تعالیٰ نہ صحابہ نے شرک کیا نہ معاذ اللہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شرک سنکر گوارہ فرمایا ۔ کسی کے لحاظ وپاس کو کام میں لانا ممکن تھا نہ یہودی مردک تعلیم توحید کرسکتا تھا ۔
بلکہ حقیقت امریہ ہے کہ مشیت حقیقیہ ذاتیہ مستقلہ اللہ عزوجل کے لئے خاص ہے اور مشیت عطائیہ طابعہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع