30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲۸۲۴۔ المواہیب اللدنیۃ للقسطلانی، ٭
۲۸۲۵۔ کنز العمال للمتقی، ۳۵۴۹۹، ۱۲/۴۳۱ ٭
حضرت عبد اللہ بن غنم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مسجد نبوی میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے ، کچھ مدینہ کے باشندہ منافقین بھی جمع تھے ، ناگاہ ایک ابر نظر آیا ۔ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھ سے ایک فرشتہ نے سلام کے بعد عرض کی :مدت سے اپنے رب سے قدمبوسی حضور کی دعا مانگتا تھا ، یہاں تک کہ اب اس نے اذن دیا کہ میں حضور کو مژدہ دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو حضور سے زیادہ کوئی عزیز نہیں ۔
۲۸۲۶۔ عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :حملت علی دابۃ بیضاء بین الحمار و بین البغل ، فی فخذیہا جناحان تحفز بہما رجلیہا ، فلما دنوت لا رکبہا شمست ، فوضع جبرئیل یدہ علی معرفتہا ثم قال : الا تستحین یا براق مما تصنعین ؟ و اللہ ! ما رکب علیک عبد اللہ قبل محمد اکرم علی اللہ منہ ، فاستحیت حتی ارفضت عرقا، ثم اقرت حتی رکبتہا فعملت باذنیہا و قبضت الارض حتی کان منتہی و قع حافرہا طرفہا ، وکانت طویلۃ الظہر طویلۃ الاذنین و خرج معی جبرئیل لا یفوتنی و لا افوتہ حتی انتہی بی الی بیت المقدس فانتہی البراق الی موقفہ الذی کان یقف فربطتہ فیہ ، وکان مہبط الانبیاء ، و رأیت الانبیاء جمعوا لی، فرأیت ابراہیم و موسی و عیسی فظننت انہ لابد من ان یکون لہم ایام ، فقدمتی جبرئیل حتی صلیت بین ایدہم ، و سألتہم فقالوا : بعثنا للتوحید۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : معراج کی شب میں ایک جانور پر سوار ہوا جو گدھے سے بڑا ور خچر سے چھوٹا تھا ۔ اس کی دونوں رانوں میں پر تھے حسن کے ذریعہ وہ خوب تیز چلتا ، جب میں سوار ہونے کے قریب ہوا تو اس نے شوخی کی ، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اس کی گردن پر تھپکی دی اور فرمایا: اے براق تجھے اپنی شوخی پر شرم نہیں آتی ، قسم بخدا ْ تجھ پر آج تک محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بڑھ کر اللہ کے یہاں بر گزیدہ کوئی دوسرا سوار نہیں ہوا ۔ یہ سن کر وہ پسینہ پسینہ ہوگیا ، وہ سکون سے ہوا تو میں اس پر سوا ر ہوا ،میں نے اس کے کان پکڑے اور نہایت اطمینان سے بیٹھا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع