30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیجیئے ، فرمایا : سبحان اللہ ! یہ کیا ؟ کہا :آپ کعبہ کی قسم کھاتے ہیں ، اس پر سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کچھ مہلت دی ، یعنی ایک مدت تک کچھ ممانعت نہ فرمائی ،پھر فرمایا : یہودی نے ایسا کہا ہے ،تو اب جو قسم کھائے وہ رب کعبہ کی قسم کھائے ،یہودی نے عرض کی : اے محمد ! آپ بہت عمدہ لوگ ہیں اگر اللہ کا برابر والا نہ ٹھرایئے ،فرمایا : سبحان اللہ !یہ کیا ؟ کہا : آپ کہتے ہیں جو چاہے اللہ اور جو چاہوتم ۔اس پر بھی سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۱۷۶۔ المعجم الکبیر للطبرانی، ۲۵/ ۱۴
نے ایک مہلت تک کچھ نہ فرمایا،بعدہ فرمادیا ، اس یہودی نے ایسا کہا ہے ،تو اب جو کہے کہ جوچاہے اللہ تعالیٰ تو دوسرے کے چاہنے کو جدا کرکے کہے کہ پھر چاہو تم ۔
] ۵۰ [ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
امام طائفہ وہابیہ کی اور بڑھکر سنئے ،شرک فی العادۃ کے بیان میں لکھا ۔
اللہ صاحب نے اپنے بندوں کو سکھایا ہے کہ دنیا کے کاموں میں اللہ کو یاد رکھیں اور اس کی کچھ تعظیم کرتے رہیں ۔جیسے اولاد کا نام عبد اللہ ،خدا بخش رکھنا ، جس چیز کو فرمایا اس کو برتنا ، جو منع کیا اس سے دور رہنا ، اور یوں کہنا کہ اللہ چاہے تو ہم فلانا کام کرینگے اور اس کے نام کی قسم کھانی ،اس قسم کی چیزین اللہ نے اپنی تعظیم کے لئے بنائی ہیں ،پھر کوئی کسی انبیاء ،اولیاء ، بھوت پری کی اس قسم کی تعظیم کرے ، جیسے اولاد کانام عبد النبی ،امام بخش رکھے ، کھانے ،پینے ،پہننے میں رسموں کی سند پکڑے ، یا یوں کہے کہ اللہ ورسول چاہے گا تو میں آؤنگا ، یا پیغمبر کی قسم کھاوے ، سو ان سب باتوںسے شرک ثابت ہوتا ہے ۔اس کو اشراک فی العادۃ کہتے ہیں ۔ تفویۃ الایمان
پھر اس شرک کی فصل میں اس مدعا کے ثبوت کو مشکوۃ کے باب الاسامی سے شرح السنہ کی حدیث بروایت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لایا کہ سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ۔
لاتقولوا ماشاء اللہ وشاء محمد ،وقولوا ماشاء اللہ وحدہ ۔نہ کہوجو چاہے اللہ اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔یوں کہو کہ جو چاہے ایک اللہ ۔ تفویہ
اور اس پر یہ فائدہ چڑھایا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع