30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تاریخ اصفہان لا بی نعیم ، ۱/ ۲۹۱ ٭ المطالب العالیۃ ،لابن حجر، ۱۹۳
۳۰۰۶۔ المسند لا حمد بن حنبل ، ۵/ ۳۷۶ ٭
ہے ،حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ہم حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے ، حضور کے سامنے اموال غنیمت غلام ومتاع حاضر تھے ، حضور تقسیم فرمارہے تھے ، سب بانٹ چکے تو یہ انگوٹھی باقی رہی ، حضور نے نظر مبارک ٹھا کر اپنے اصحاب کرام کو دیکھا پھر نگاہ نیچی کرلی ، پھر نظر اٹھاکر ملاحظہ فرمایا پھر نگاہ نیچی کرلی ، پھر نظر اٹھاکر دیکھا اور مجھے بلایا ، اے براء ! میں حاضر ہوکر حضور کے سامنے بیٹھ گیا ، سید اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انگوٹھی لیکر میری کلائی تھامی پھر فرمایا: لے پہن لے جو کچھ تجھے اللہ ورسول پہناتے ہیں ، جل جلالہ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے : تم لوگ کیونکر مجھے کہتے ہو کہ میں وہ چیز اتار ڈالوں جسے مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا : لے پہن لے جو کچھ اللہ
ورسول نے پہنایا ہے جل جلالہ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔ الامن والعلی ۱۸۵
(۵۱) حضرت سراقہ کو سونے کے کنگن جائز کردیئے
۳۰۰۷ ۔ عن الحسن البصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لسراقۃ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ : کیف بک اذالبست سواری کسری ، اذا فتح کسری بزمن امیرالمؤمنین عمربن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فجیئت بسواری کسری الی عمر الفاروق فالبسھما سراقۃ وقال : قل : برفع یدیک اللہ اکبر ، الحمد للہ الذی سلبھما کسری بن ھرمز والبسھما سراقۃ الاعرابی ۔
حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا : وہ وقت تیرا کیسا ہوگا جب تجھے کسری بادشاہ ایران کے کنگن پہنائے جائینگے ؟ جب ایران زمانۂ امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں فتح ہو اور کسری کے کنگن، کمر بند، تاج خدمتِ فاروقی میں حاضر کئے گئے ، امیر المؤ منین نے انہیں پہنائے اور فرمایا : اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہو ۔ اللہ بہت بڑا ہے ، سب خوبیاں اللہ کو جس نے یہ کنگن کسری بن ہرمز سے چھینے اور سراقہ دہقانی کو پہنائے ۔
امام زرقانی فرماتے ہیں : اس حدیث سے سونے کا استعمال جائز نہیں ہوتا، کیونکہ وہ تو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع