30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تاریخ دمشق لا بن عساکر ، ۵/ ۱۳۶ ٭ مجمع الزوائد للہیثمی ، ۹/ ہ۳۲
المصنف لا بن ابی شیبۃ ، ۴/ ۵۳۸ ٭ الاصابہ لا بن حجر ۲ ۲۳۹
کنز العمال للمتقی ، ۳۷۰۳ ٭ التاریخ الکبیر للبخاری ، ۱/ ۸۷
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقال : ان کنت مبتاعا ھذا الفرس والا بعتہ ، فقام النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حین سمع نداء الاعرابی فقال : اولیس قد ابتعتہ منک ؟ قال الاعرابی : لا واللہ ! ما بعتکہ ، فقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : بلی قد ابتعتہ منک ، فطفق الاعرابی یقول : ھلم شہیدا ، فقال : خزیمۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : انا اشہد انک قد بایعتہ ، فاقبل النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم علی خزیمۃ فقال : لم تشہد ؟ فقال : بتصدیقک یارسول اللہ ! فجعل النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم شھادۃ خزیمۃ بشھادۃ رجلین ۔ الامن والعلی ۱۸۰
حضرت عمارہ بن خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میرے چچا صحا بی رسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے بیان فرمایا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے گھوڑا خریدا ، پھر حضور اس کو اپنے ساتھ لے چلے تاکہ گھوڑے کی قیمت ادا فرمائیں ،حضور تو تیزی سے چل رہے تھے لیکن اعرابی آہستہ آہستہ قدم رکھتا تھا ، راہ میں کچھ لوگوں نے اس اعرابی سے اس گھوڑے کا مول تول کیا ، کیونکہ ان لوگو ں کو معلوم نہ تھا کہ حضور اس کو خرید چکے ہیں ۔ اعرابی نے وہاں سے ہی حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو آواز لگائی کہ آپ گھوڑا لینا چاہیں تو خریدیئے ورنہ میں گھوڑ ا فروخت کئے دیتا ہوں ۔ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وہیں ٹہر گئے اور فرمایا : کیا میں نے تجھ سے یہ گھوڑا خرید نہیں لیا ؟ اعرابی بولا ؛ نہیں قسم خدا کی ! میں نے آپ کے ہاتھ فروخت نہیں کیا ۔ حضور نے فرمایا : کیوں نہیں تو نے بلا شبہ مجھ سے سودا کرلیا ہے ، بولا : اچھا کوئی گواہ پیش کیجئے ، اس وقت حضرت خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اس سے گھوڑا خرید لیا ہے ، حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت خزیمہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تم نے گواہی کیسے دی تم تو اس وقت موجود بھی نہ تھے ، عرض کی : یارسول اللہ ! میں حضور کی تصدیق سے گواہی دے رہاہوں ۔ یہ سنکر انعام میں حضور نے آپ کی گواہی دو مردوں کی شہادت کے برابر فرمادی ۔۱۲م
۲۹۹۶ ۔ عن خزیمۃ بن ثا بت رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ابتاع من سواء بن الحارث المحاربی فرسا فجحد ہ فشہدلہ خزیمۃ بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع