30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
] ۳۴[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یہ بات ظاہر ہے کہ گذشتہ احادیث میں ہر عورت کے لئے رخصت اسی کے ساتھ خاص تھی کہ اس میں دوسری شریک نہ تھی ،لہذا امام نووی کے قول پر اس بات کی تردید نہ کی جائے کہ انہوں نے فرمایا : یہ رخصت صرف حضرت ام عطیہ کے لئے خاص تھی ۔
اسی طرح وہ تعارض بھی دور کیا جاسکتا ہے جس میں بعض حضرات کو اشکال پیش آیا کہ قربانی سے متعلق احادیث حضرت ابوبردہ بن نیار اور حضرت عقبہ بن عامر دونوں کے لئے کیسے ہوسکتی ہیں کہ تخصیص تو صرف ایک ہی کی متصور ہوگی ۔
دفع تعارض کی صورت یہ ہوگی کہ دونوں احادیث میں حکم ہے خبر نہیں ، اور اس میں شک نہیں کہ جب شارع علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت ابو بردہ کو ایک حکم میں خاص کردیا تو ان کے علاوہ تمام امت اس بات میں شریک ہوئی کہ کسی کے لئے ششماہی بکری کی قربانی جائز نہیں ، پھر حضرت عقبہ بن عامر کو خاص کیا تو اب بھی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ تمہارے سوا کسی کے لئے جائز نہیں ، اور صرف انہیں پر منحصر نہیں بلکہ بعد میں جسکے لئے بھی حضور فرماتے جاتے سب کے لئے ہر مرتبہ یہ حکم تخصیص صادق آتا ، فافھم فقد خفی علی کثیرمن الاعلام۔
الامن والعلی ۱۷۹
( ۴۳) حضرت اسماء کی عدت وفات اور سوگ فقط تین دن متعین فرمایا
۲۹۹۳۔ عن اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت : لما اصیب جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ امرنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقال : تسلّمی ثلاثا ثم اصنعی ماشئت ۔
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ تم تین دن سنگار سے الگ رہو پھر جو چاہو کرو۔
ژژژژژ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع