30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خصائص کریمہ سے ہے کہ حضور شریعت کے عام احکام سے جسے چاہتے مستثنی فرمادیتے ۔
میزان الشریعۃ الکبری ٰمیں ہے: ۔
شریعت کی دوسری قسم وہ ہے جو مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان کے رب عزوجل نے ماذون فرمادیا کہ خود اپنی رائے سے جو راہ چاہیں قائم فرمادیں ، مردوں پر ریشم پہننا حرام حضور نے اسی طور پر فرمایا ، گیاہ اذخر کا استثنا ء اسی طور پر گذرا نماز عشا کے مؤخر نہ ہونے اور حج کی ہر سال فرضیت صادر نہ کرنے کی وجوہ بھی اسی قبیل سے متعلق ہیں ۔
بلکہ امام جلیل جلال الدین سیوطی قدس سرہ نے خصائص کبری شریف میں ایک باب وضع کیا۔
باب اختصاصہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بانہ یخص من شاء بماشاء من الاحکام ۔
باب اس بیان کا کہ خاص نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ منصب حاصل ہے کہ جسے چاہیں جس حکم سے چاہیں خاص فرمادیں ۔ امام قسطلانی نے اس کی نظیر میں پانچ واقعے ذکر کئے تھے اور امام سیوطی نے دس ۔ پانچ وہ اور پانچ دیگر ۔
فقیر نے ان زیادات سے تین واقعے ترک کردیئے اور پندرہ اور بڑھائے اور ان کی احادیث بتوفیق اللہ تعالیٰ جمع کیں کہ جملہ بائیس واقع ہوئے ، وللہ الحمد ،
ان کی تفصیل اور ہر واقعے پر حدیث سے دلیل سنئے ۔
(۴۱) ششماہی بکری کی قربانی جائز فرمادی
۲۹۸۵ ۔ عن البراء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : صلی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ذات یوم فقال : من صلی صلاتنا واستقبل قبلتنا فلا یذبح حتی ینصرف ، فقام خالی ابو بردۃ بن نیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فقال :یا رسول اللہ! فعلت ، فقال: ہو شیء عجلتہ ، قال : فان عندی جذعۃ ہی خیر من مسنتین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۹۸۵۔ الجامع الصحیح للبخاری ، باب ذبح قبل الصلوۃ اعادہ ، ۲/ ۸۳۴
الصحیح لسملم ، کتاب الاضاحی ، ۲ / ۱۵۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع