30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یارسول اللہ! فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اکتبوا لابی شاہ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر خطبہ ارشاد فرمایا : پہلے حمدو ثنا بیان فرمائی اس کے بعد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ اور خانۂ کعبہ کی ہاتھیوں سے حفاظت فرمائی اور ابرہہ کو خائب و خاسر کیا ، اور آج اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور مؤ منین کو فاتح فرمایا ، مجھ سے پہلے یہ کسی کے لئے حلال نہ ہوا ، اور میرے لئے آج دن کی ایک ساعت میں حلال ہوا تھا لیکن اب میرے بعد کسی کے لئے حلال نہ ہوگا ، اسکا شکار نہ بھڑکایا جائے ، خار دار درخت نہ کاٹے جائیں ، گری پڑی چیز اعلان کرنے والے کے علاوہ کوئی نہ اٹھائے ، اور جسکا کوئی شخص قتل کردیا جائے تو اسے دو باتوں کا اختیار ہے خواہ فدیہ لے لے خواہ قصاص ، حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مگراذخر کہ وہ گھروں اور قبروں کے لئے ہے ، فرمایا : مگر اذخر ۔ یمن کے باشندہ ابو شاہ نے کھڑے ہوکر عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ خطبہ مجھے لکھوادیں ، فرمایا : ابو شاہ کے لئے لکھدو ۔۱۲م
۲۹۷۴۔ عن صفیۃ بنت شیبۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت : سمعت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یخطب عام الفتح فقال : یا ایہا الناس ! ان اللہ حرم مکۃ یوم خلق السمٰوات والارض فہی حرام الی یوم القیامۃ ، لا یعضد شجرہا ولا ینفر صیدہا ولا یأ خذ لقطتہا الا منشد ، فقال العبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ : الاالاذخر
فانہ للبیوت والقبور ، فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : الاالا ذخر ۔
حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے فتح مکہ کے موقع پر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا : اے لوگو ! بیشک اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے دن ہی مکہ مکرمہ کو حرم محترم بنایا تھا لہذا وہ قیامت تک حرام ہی رہے گا ، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں ، یہاں شکار کو نہ بھڑکایا جائے ، اور کوئی گری پڑی چیز نہ اٹھا ئے مگر وہ جو اعلان کرے ۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عر ض کیا : یا رسول اللہ ! مگر اذخر کہ وہ ہمارے گھروں اور قبروں کے کام آتی ہے ۔ فرمایا : مگر اذخر ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۹۷۴۔ السنن لا بن ماجۃ ، باب فضل مکۃ ،
شرح السنۃ للبغوی ، ۷/ ۲۹۷ ٭ فتح الباری ، للعسقلانی ، ۵/ ۸۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع