30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کے جنگل کا بتاکید تام و اہتمام تمام وہی ادب مقرر فرمایا جو مکہ معظمہ کے جنگل کا ہے۔ بایں ہمہ طائفہ تالفہ وہابیہ کا امام بد فرجام بہ کمال دریدہ دہنی صاف صاف لکھ گیا ۔
گر دو پیش کے جنگل کا ادب کرنا یعنی وہاں شکارنہ کرنا ، درخت نہ کاٹنا یہ کام اللہ نے اپنی عبادت کے لئے بتائے ہیں ، پھر جو کوئی کسی پیر پیغمبر یا بھوت پری کے مکانوں کے گردو پیش کے جنگل کا ادب کرے سوا اس پر شر ک ثابت ہے ۔ ( تفویۃ الایمان )
کیوں ہم نہ کہتے تھے کہ یہ ناپاک مذہب ، ملعون مشرب ، اسی لئے نکلا ہے کہ اللہ و رسول تک شرک کا حکم پہونچائے ،پھر اور کسی کی کیا گنتی ۔
تف ہزار تف برروئے بد دینی ۔
اب دیکھنا ہے کہ اس امام بے لگام کے مقلد کہ بڑے موحد بنے پھرتے ہیں اپنے امام کا ساتھ دیتے ہیں یا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پڑھنے کی کچھ لاج کرتے ہیں ۔ اللہ کی بیشمار درودیں محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور ان کے ادب داں غلاموں پر ۔
ذرا ملاحظہ ہو ، مدینہ طیبہ کے راستے میں نا معقول باتیں کرنا وہابیہ کا جز و ایمان ہے ،
جو نہ کرے ان کے نزدیک مشرک ہو جائے ۔
مسلمانو! صرف یہ ہی نہ سمجھنا کہ اس گمراہ امام الطائفہ کے نزدیک حرم محترم حضور پر نور مالک الامم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ادب ہی شرک ہے، نہیں نہیں بلکہ اس کے مذہب میں جو شخص حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت سراپا طہارت کے لئے مدینہ طیبہ کو چلے اگر چہ چار پانچ کوس کے فاصلہ سے ( کہ کہیں وہابیت کے شرک شد الرجال کا ماتھا نہ ٹھنکے ) اس پر راستہ میں بے ادبیاں بیہودگیاں کرتے چلنا فرض عین و جزو ایمان ہے ۔ یہاں تک کہ اگر اپنے مالک و آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت و جلال کے خیال سے با ادب مہذب بنکر چلے گا اس کے نزدیک مشرک ہوجائیگا ۔ اسی کتاب ضلالت مآب کے اسی مقام میں ۔
’’ رستے میں نا معقول باتیں کرنے سے بچنا ۔ تفویۃ الایمان
بھی انہیں امور میں گنا دیا ، جنہیں خدا پر افتراء کر کے کہتا ہے ، یہ سب کام اللہ نے اپنی عبادت کے لئے اپنے بندوں کو بتائے ہیں جو کوئی کسی پیر پیغمبر کے لئے کرے اس پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع