30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ زمان استقبال کے لئے خاص کہ جب تک یہ صیغہ زبان سے ادا ہوگا زمانۂ حال منقضی ہو جائے گا، اس کے بعد قبول و و قوع جو کچھ ہوگا زمانہ تکلم سے زمانہ مستقبل میں آئے گا ، اگر چہ بحالت فورو اتصال اسے عرفا زمانہ حال کہیں بہر حال درخواست و قبول کو زمانہ ماضی سے اصلا تعلق نہیں، اب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کیا فرمایا : یعنی ہاں دوں گا ، لا جرم یہ قبول زمانہ ٔ استقبال کا وعدہ ہوا۔ فان السؤال معاد فی الجواب ای نعم انحلہما ۔
اس کے متصل ہی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے اس شاہزادے کو یہ نعمتیں دیں ، اور اس شہزادے کو یہ دولتیں بخشیں، یہ صیغے بظاہر ماضی کے ہیں ،اور اس سے مراد زمان وعدہ تھا اور زمان وعدہ عطا نہیں کہ وعدہ عطا پر مقدم ہوتا ہے، لا جرم یہ صیغے اخبار کے نہیں بلکہ انشاء کے ہیں ،جس طرح بائع و مشتری کہتے ہیں : بعت اشتریت ، میں نے بیچی ،میں نے خریدی،۔ یہ صیغے کسی گزشتہ خرید و فروخت کی خبر دینے کو نہیں ہوتے بلکہ انہیں سے بیع وشراء پید اہوتی ہے ، انشا کی جاتی ہے ۔
یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس فرمانے ہی میں کہ میں نے اسے یہ دیا، اسے یہ دیا ، حلم و ہیبت ، جود و شجاعت اور رضا و محبت کی دولتیں شاہزادوں کو بخش دیں ،یہ نعمتیں خاص خزائن ملک السموات و الارض جل جلالہ کی ہیں ۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
تو وہ جو زبان سے فریادے کہ میں نے دیں اور اس فرمانے سے وہ نعمتیں حاصل ہو جائیں قطعاً یقینا وہی کر سکتا ہے جس کا ہاتھ اللہ وہاب رب الارباب جل جلالہ کے خزانوں پر پہونچتا ہے ، جسے اس کے رب جل و علا نے عطا و منع کا اختیار دے دیا ہے ،ہاں وہ کون ؟ ہاں واللہ ! وہ محمد رسول اللہ ماذون و مختار حضرت اللہ ،قاسم ومتصرف خزائن اللہ جل جلالہ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ،والحمد للہ رب العالمین ،
لا جرم امام اجل احمد بن حجر مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کتاب مستطاب جوہر منظم میں فرماتے ہیں ۔
ہو صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خلیفۃ اللہ الاعظم الذی جعل خزائن کرمہ و موائد نعمہ طوع یدیہ و اردتہ یعطی من یشاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع