30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حتی قبضہ اللہ تعالیٰ وہو عنی راض، والحمد للہ و انا اسعد الناس بذلک ثم انی ولیت امورکم ،اعلموا ان تلک الشدۃ قد تضا عفت ولکنہا انما تکون علی اہل الظلم والتعدی علی المسلمین ، و اما اہل السلامۃ والدین والقصد فأ نا الین لہم من بعضہم لبعض ، ولست ادع اجداً یظلم احدا ویعتدی علیہ حتی اضع خدہ علی الارض واضع قدمی علی الخد الآخر حتی یذعن للحق ، ولکم علی أیہاالناس ان لا اخبأ عنکم شیأ من خرا جکم واذا وقع عندی ان لا یخرج الا بحقہ ، ولکم علی ان لا القیکم فی المہا لک واذا غبتم فی البعوث فا نا ابو العیال حتی ترجعوا ، اقول قولی ہذا واستغفر اللہ العظیم لی ولکم ، قال سعید بن المسیب : وفی و اللہ عمر وزاد فی الشدۃ فی مواضعہا واللین فی مواضعہ ، وکان رضی اللہ تعالی عنہ ابا العیال حتی کان یمشی الی المغیبات ای التی غابت عنہن ازواجہن ویقول : الکن حاجۃ حتی اشتری لکن فا نی اکرہ ان تخدعن فی البیع ولشراء فیر سلن بجواریہن معہ فیدخل فی السوق ووراء ہ من جواری النساء وعلمانہن مالایحصی فیشتری لہن حوائجہن ومن کان لیس عندہا شیٔ اشتری لہا من عندہ رضیٰ اللہ تعالی عنہ ، ۔
حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوئے لوگوں پر ان کے شدت و جلال سے عجیب ، ہیبت چھائی یہاں تک کہ لوگوں نے باہر بیٹھنا چھوڑ دیا ، کہ جب تک امیر المؤمنین کا برتاؤ نہ معلوم ہو متفرق رہو ( لوگ بولے صدیق اکبر کی نرمی اس درجہ تھی کہ مسلمانوں کے بچے جب انہیں دیکھتے دوڑتے ہوئے باپ باپ کہتے ان کے پاس جاتے وہ ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور ان کی ہیبت کی یہ حالت ہے کہ مردو ں نے اپنی مجالس چھوڑ دیں ) جب امیر المؤمنین کو یہ خبر پہونچی حکم دیا کہ جماعت نماز کے لئے پکار دیں ، لوگ حاضر ہوئے ،امیر المؤمنین منبر پر وہاں بیٹھے جہاں صدیق اکبر اپنے قدم مبارک رکھتے تھے، اور فرمایا : مجھے کافی ہے کہ صدیق کے قدموں کی جگہ بیٹھوں ، جب سب جمع ہولئے امیر المؤمنین نے منبر اطہر سید ازہر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر کھڑے ہوکر خطبہ دیا ، حمد ثنا ئے الہی و درود رسالت پناہی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد کہا :
مجھے یہ اطلاع ملی ہے تم مجھ میں سختی و درشتی پاتے ہو ، اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لوگ کہہ رہے ہیں عمر ہم پر حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی موجود گی میں بھی سخت تھے اور صدیق اکبر کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع