30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محسوس ہونے لگا کہ میرے لئے یہ بھی ایک ابتلا ؤ آزمائش ہے ، لہذا اس خط کو میں نے چولھے میں جلا دیا ۔
جب چالیس روز گزر گئے توحضور کی طرف سے ایک قاصد میرے پاس یہ خبر لا یا کہ آپ کا یہ حکم ہے کہ اپنی بیوی سے علیحدہ رہو ، میں نے کہا: کیا میں اس کو طلاق دیدوں ؟وہ بولا: نہیں بلکہ صرف علیحدہ رہو کہ صحبت نہ کرو ۔ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی اسی طرح کا حکم بھیجا گیا تھا ، یہ فرمان سن کر میں نے اپنی اہلیہ سے کہا : تم اپنے میکے چلی جاؤ اور وہیں رہو جب تک اللہ تعالی اس بارے میں کوئی حاکم نازل فرمائے ۔ہلال بن امیہ کی بیوی یہ سنکر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض گزار ہوئیں: یا رسول اللہ! ہلال بن امیہ ایک بوڑھے شخص ہیں ،ان کے پاس کوئی خادم بھی نہیں ، تو کیا حضور مجھے اجازت دینگے کہ میں ان کی خدمت کرتی رہوں ، فرمایا: خدمت کو منع نہیں کرتا ، لیکن وہ تم سے صحبت نہیں کر سکتے ، بولیں : یا رسول اللہ ان کو تو کسی کام کا خیال ہی نہیںوہ تواول دن سے اب تک گریہ و زاری ہی کرر ہے ہیں۔
حضرت کعب کہتے ہیں : میرے گھر والوں نے مجھ سے کہا : کاش تم بھی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اپنی بی بی کے پاس رہنے کی اجازت مانگتے جس طرح ہلال بن امیہ کی بیوی نے اجازت حاصل کرلی ہے ، میں نے کہا :میں کبھی اجازت نہ لونگا ، کہ میں جوان آدمی ہوں ،پھر اسی حال میں دس راتیں اور گزریں اور پورے پچاس دن اور راتیں گزر گئے ۔
پچاسویں دن میں نے فجر کی نماز اپنے گھر کی چھت پر پڑھی ، نماز سے فارغ ہو کر میں چھت پر بیٹھا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا حال بیان فرمایا : کہ میر اجی تنگ ہو گیا تھا اور زمین اپنی کشادگی کے باوجود ہم پر تنگ ہو گئی تھی ۔ اتنے میں سلع پہاڑ پر چڑھ کر ایک منادی ندا کر رہا تھا ! اے کعب بن مالک خوش ہوجا ، یہ سنکر میں سجدہ میں گر پڑا۔
حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد لوگوں کو خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کو معاف فرما دیا ۔لوگ ہمیں خوشخبری دینے کے لئے روانہ ہوئے ، میرے ساتھیوں کے پاس بھی خوشخبری پہونچائی گئی ، اور ایک تیز رو قاصد گھوڑا دوڑاتا میرے پاس آیا ۔ یہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص تھا ، اس کی تیز رفتاری کی وجہ سے مجھ تک خوشخبری نہایت جلد پہونچ گئی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع