30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲۸۱۳۔ عن سلمان الفارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قیل لرسول اللہ صلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۸۱۳ ۔ تاریخ دمشق لابن عساکر،
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ان اللہ تعالی کلم موسی ، وخلق عیسی من روح القدس ، واتخذ ابراہیم خلیلا ، و اصطفی آدم علیہم الصلوٰۃ و السلام وما اعطاک فضلا ، فینزل جبرئیل علیہ السلام وقال : ان اللہ تعالیٰ یقول : ان کنت اتخذت ابراہیم خلیلا قد اتخذتک حبیبا ، وان کنت کلمت موسی فی الارض تکلیما فقد کلمتک فی السماء ، وان کنت خلقت عیسی من روح القدس فقد خلقت اسمک من قبل ان اخلق الخلق بالفی سنۃ ، ولقد وطأت فی السماء مؤطا لم یطأہ احد قبلک ولا یطأ احد بعدک ، و ان کنت اصطفیت آدم فقد ختمت بک الانبیا ئ، وما خلقت خلقا اکرم علی منک ( وساق الحدیث الی ان قال ) ظل عرشی فی القیامۃ علیک ممدود ، تاج الحمد علی راسک معقود ، و قرنت اسمک مع اسمی فلا اذکر فی موضع حتی تذکر معی، ولقد خلقت الدنیا واہلہا لا عرفہم کرامتک، ومنزلتک عندی ، ولو لاک ما خلقت الدنیا ۔
حضر ت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ السلام سے کلام کیا ، عیسی علیہ السلام کو روح القدس سے بنایا ، ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل فرمایا ، آدم علیہ السلام کو برگزیدہ کیا ۔ حضور کوکیا فضل دیا ؟فوراً جبرئیل علیہ الصلوٰۃ و السلام حاضر ہوئے اور عرض کی: حضور کا رب ارشاد فرماتا ہے: اگر میں نے ابراہیم کو خلیل کیا توتمہیں حبیب کیا ،اور اگر موسی سے زمین میں کلام فرمایا تم سے آسمان میں کلام کیا ، اور اگر عیسی کو روح القدس سے بنایاتو تمہارا نام آفرینش خلق سے دو ہزار برس پہلے پیدا کیا ، اور بیشک تمہارے قدم آسمان میں وہاں پہونچے جہاں نہ تم سے پہلے کوئی گیا اور نہ تمہارے بعد کسی کی رسائی ہے ، اور اگر میں نے آدم کو بر گزیدہ کیا تو تمہیں خاتم الانبیاء ٹھہرایا ، اور تم سے زیادہ عزت و کرامت والا کسی کو نہ بنایا ۔ قیامت میں میرے عرش کا سایہ تم پر گستردہ ، اور حمد کا تاج تمہارے سر پر آراستہ، تمہارا نام میں نے اپنے نام سے ملایا ، کہ کہیں میری یاد نہ ہو جب تک تم میرے ساتھ یاد نہ کئے جاؤ ۔ اور بیشک میں نے دنیا اور اہل دنیا کو اس لئے بنایا کہ جو عزت و منزلت تمہاری میرے نزدیک ہے ان پر ظاہر کروں ، اگر تم نہ ہوتے میں دنیا کو نہ بناتا ۔
تجلی الیقین ص ۷۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع