30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صالحہ برباد ہوگئے ، فرمایا : کس نے کہا: عرض کیا : بعض صحابہ کرام کا کہنا ہے ، فرمایا: جس نے کہا
جھوٹ کہا ، ان کو دو گنا اجر ملا ۔
واقعہ یہ ہوا کہ جب خیبر کے لئے سفر کرکے آرہے تھے تو صحابۂ کرام اورحضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے انہوں نے حدی خوانی کرتے ہوئے یہ اشعار کہے تھے۔
قسم بخدا! اگر ہمارے اوپر سایۂ کرم نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے ۔ نہ نماز پڑھنے کی توفیق ملتی اور نہ زکوۃ کی ۔ بیشک کافروں نے ہم پر زیادتی کی ہے، جب وہ کسی فتنہ و فساد کاارداہ کرتے ہیں تو آپ ہی ہمیں ان سے بچاتے ہیں۔ ہم آپ کے فضل سے بے نیاز نہیں ، لہذا آپ ہمیں دشمنوں سے مقابلہ میں ثابت قدم رکھئے۔ اور حضور ہم پر سکینہ اتا ریں ۔
یہ اشعار سنکر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اشعار کون پڑھ رہا ہے ؟ عرض کیا: یا رسول اللہ ! یہ حضرت عامر ہیں ، فرمایا: اے عامر ! تمہارے رب نے تمہاری مغفرت فرمادی۔ حضور کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی کسی خاص شخص کے لئے دعائے مغفرت فرماتے تو وہ شہادت سے سرفراز ہوتے ۔ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ دعا سنی تو عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں حضرت عامر سے مزید فائدہ کیوں نہ حاصل کرنے دیا ۔
حضرت سلمہ فرماتے ہیں : حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مجھے اس موقع پر حضرت مولی علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے پاس بھیجا اور فرمایا : آج میں اسلامی پرچم اس شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ و رسول اس سے محبت فرماتے ہیں ۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں : میں آپکو لیکر حاضر ہوا جبکہ آپکی آنکھیں دکھ رہی تھیں ۔ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگا دیا جس سے وہ شفا یاب ہوگئے ، پھر اسلامی پرچم عطا فرمایا ۔ آپ کے مقابلہ میں بھی مرحب یہودی یہ شعر پڑھتا ہواآیا۔
خیبر کی زمین گواہ ہے کہ میں مرحب ہوں ،صاحب شوکت و دبدبہ بہادر مرد جو ہتھیار لگا کر نکلتا ہے جبکہ جنگ کی آگ خوب بھڑک رہی ہوتی ہے ۔
اس کے جواب میں حضرت میں مولی علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے بھی رجز کے یہ اشعار پڑھے ۔
میں وہ ہوں کہ میری والدہ ماجدہ نے میرا نام حیدر رکھا ،میں جنگلوں کے ہیبتناک شیر کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع