30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الترس ، فلما توسطت السماء انتشرت ثم امطرت ،قال : فو اللہ ! ما رأینا الشمس سبتا ، ثم دخل رجل من ذلک الباب فی الجمعۃ المقبلۃ و رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قائم یخطب فاستقبلہ قائما فقال : یا رسول اللہ ! ہلکت الاموال وانقطعت السبل ، فادع اللہ ان یمسکہا ، قال : فرفع رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یدیہ ، ثم قال: اللہم ! حوالینا ولا علینا ، اللہم ! علی الآ کام والجبال والظراب والاودیۃ و منابت الشجر ، قال : فانقطعت ، وخرجنا نمشی فی الشمس ، قال : شریک ،فسألت انساً اہوالرجل الاول ؟ قال:
لا ادری ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب جمعہ کے دن مسجد نبوی میں اس دروازہ سے داخل ہوئے جو منبر نبوی کے ٹھیک سامنے تھا ، حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس وقت منبر پر تشریف فرما ہوکر خطبہ دے رہے تھے ، حضور کے با لکل سامنے پہونچ کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! مال برباد ہو گئے اور راستے منقطع ہو گئے کہ جانوروں کے لئے چارہ اور پانی نہیں ، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ بارش ہو جائے ، حضور نے اپنے مبارک ہاتھ دعا کے لئے اٹھا دئیے اور دعا کی ، الہی ! ہمیں سیراب فرما، الہی !ہمیں سیراب فرما، الہی ! ہمیں سیراب فرما،حضرت انس کہتے ہیں کہ: خد اکی قسم ! اس وقت ہم نے نہ تو کہیں بادل دیکھا تھا اور نہ بادل کا ٹکڑا ، نہ ہمارے درمیان اور نہ پہاڑی آبادی میں کسی مقام پر ۔ پھر اچانک پہاڑ کے کنارے سے ایک ڈھال کے برابر بادل کاٹکڑا اٹھا اور آسمان کے بیچ آکر پھیل گیا ۔ پھر بارش شروع ہوئی اور قسم بخدا ہم نے ایک ہفتہ تک سورج نہیں دیکھا، دوسر ے جمعہ کو اسی دروازہ سے پھر ایک شخص آیا ، اس وقت بھی حضور خطبہ دے رہے تھے، حضور کی خدمت میں پہونچ کر عرض کی: یا رسول اللہ ! مال ہلاک ہوگئے اور راستے منقطع ہوگئے پانی کی کثرت و سیلاب سے ،اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ بارش تھم جائے ، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پھر ہاتھ اٹھائے اور دعاکی : الہی ! ہمارے ارد گرد پہاڑوں اور ٹیلوں چراگاہوں ، ندیوں نالوں اور جنگلوں پر بارش فرما۔ راوی فرماتے ہیں : اس کے بعد فوراً بارش رک گئی اور ہم مسجد سے نکلے تو خوب دھوپ تھی حضرت شریک نے حضرت انس سے پوچھا دوسرے جمعہ کو آنیوالے ہی پہلے شخص تھے ، فرمایا : اسکا مجھے علم نہیں ۔ ۱۲م
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع