30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رکھنے کی طاقت نہیں ، کام کاج کرتے کرتے ان کے سینے شق ہوگئے ہیں ) ان کی چھاتی سے خون بہہ رہا ہے ، مائیں بچوں کو بھول گئی ہیں ، جوان قوی کو اگر کوئی لڑکی دونوںہاتھوں سے دھکا دے تو ضعف گرسنگی سے عاجزانہ زمین پر ایسا گر پڑتا ہے کہ منہ سے کڑوی میٹھی کوئی بات نہیں نکلتی ، اور ہمارا حضور کے سوا کون ہے جس کے پاس مصیبت میں بھاگ کر جائیں ، اور خود مخلوق کو جائے پناہ ہی کہاں مگر رسولوں کی بارگاہ میں ، صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
یہ فریاد سن کر حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فورا ًبہ نہایت عجلت منبر اطہر پر جلوہ فرما ہوئے اور دونوں دست مبارک بلند فر ما کر اپنے رب عزوجل سے پانی مانگا ، ابھی وہ پاک مبارک ہاتھ جھک کر گلوئے پر نور تک نہ آئے تھے کہ آسمان اپنی بجلیوں کے ساتھ امڈا اور بیرون شہر کے لوگ فریاد کر تے آئے کہ یا رسول اللہ ! ہم ڈوبے جاتے ہیں حضور نے فرمایا : ہمارے گرد برس ، ہم پر نہ برس ، فورا ً ابر مدینے پر کھل گیا ، آس پاس گھرا تھا اور مدینہ طیبہ پر سے کھلا ہوا ۔
یہ ملاحظہ فرماکر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خندۂ دنداں نماکیا اور فرمایا : اللہ کے لئے خوبی ابو طالب کی ، اس وقت وہ زندہ ہوتا تو اس کی آنکھیں ٹھنڈ ی ہوتیں ، کون ہے جو ہمیں اس کے اشعار سنائے ؟ مولی علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! شاید حضور یہ اشعار سننا چاہتے ہیں جو ابو طالب نے نعت اقدس میں عرض کئے تھے ۔
کہ وہ گورے رنگ والے کہ ان کے منہ کے صدقہ میں ابر کا پانی مانگا جاتا ہے ، یتیموں کی جائے پناہ ، بیواؤ ں کے نگہبان ، بنوہاشم جیسے غیور لوگ تباہی کے وقت ان کی پناہ میں آتے ہیں ، ان کے پاس ان کی نعمتیں و فضل میں بسر کرتے ہیں ، حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :ہاں یہ ہی نظم ہمیں مقصود تھی ۔
]۱۸[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یہ حدیث نفیس بحمداللہ تعالی اول تا آخر شفائے مؤمنین وشقائے منافقین ہے ، اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پسند فرمود ہ اشعا ر میں یہ الفاظ خاص ہمار ے مقصود ہیں کہ حضور کے سوا ہمارا کوئی نہیں جس کے پاس مصیبت میں بھاگ کر جائیں ، خلق کے لئے جائے پناہ نہیںسوا بارگاہ انبیا ء علیہم الصلوۃ و السلام کے ، وہ گورے رنگ والا پیارا جس کے چاند سے منہ کے صدقے میں مینھ پڑتا ہے ، وہ یتیموں کا حافظ ، بیواؤں کا نگہبان ، وہ ملجا و ماوٰی کہ بڑے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع