30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جزائے خیر دے ، امیر المؤمنین نہ میری حاجت میں غور فرماتے تھے نہ میری طرف التفات لاتے یہاں تک کہ آپ نے میری سفارش ان سے کی ، عثمان بن حنیف نے فرمایا : خد اکی قسم ! میں نے تو تمہارے بارے میں امیر المؤمنین سے کچھ بھی نہ کہا ، مگر ہے یہ کہ میں نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا ، حضور کی خدمت اقدس میں ایک نا بینا حاضر ہوا اور اپنی نابینائی کی شکایت کی ۔ حضور نے فرمایا: موضع وضو پر جا کر وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھ اور پھر یہ دعائیں کر ’ عثمان بن حنیف فرماتے ہیں : خدا کی قسم ! ہم اٹھنے بھی نہ پائے تھے باتیں کر ہی رہے تھے کہ وہ نابینا ہمارے پاس انکھایارے ہو کر آئے گویا کبھی ان کی آنکھوں میں کچھ نقصا ن نہ تھا ۔
] ۱۷[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
امام طبرانی نے اس حدیث کو حسن صحیح کی متعدد اسنادیں ذکر کر کے فرمایا : والحدیث صحیح ، یہ حدیث صحیح ہے ۔
امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح غریب کہا ، ابو اسحاق نے اس حدیث کی تصحیح کی، اور حاکم نے شیخین کی شرط پر اس کو صحیح قرار دیا ، اما م ذہبی سے بھی ایسا ہی منقول ہے ۔ الامن والعلی مع زیادۃ ص ۱۵۶
(۲۰) صحابۂ کرام کا عقیدہ کہ حضور ہماری جان و مال کے مالک ہیں
۲۹۱۲۔ عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : قالت الانصار فعلنا و فعلنا ، فکانہم فخروا ، فقال ابن عباس او العباس ، شک عبد السلام لنا الفضل علیکم ، فبلع ذلک رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فاتا ہم فی مجالسہم فقال یا معشر الانصار الم تکونوا اذلۃ فاعزکم اللہ بی ؟ قالوا : بلی یا رسول اللہ قال : الم تکونوا ضلالا فہداکم اللہ بی ؟ قالوا : بلی یا رسول اللہ ! قال : افلا تجیبونی ، قالوا : ما نقو ل یا رسول اللہ ؟ قال : الا تقولون : الم یخرجک قومک فاوینک اولم یکذبک فصدقناک ؟ اولم یخذلوک فنصرناک قال : فما زا ل
یقول حتی جثوا علی الرکب ، و قالوا : اموالنا و ما فی ایدینا للہ و لرسولہ ۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ انصار نے ایک مرتبہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۹۱۲۔التفسیر لا بن جریر ، ۱۳ / ۲۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع