30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲۸۹۷۔ الا صابہ لا بن حجر ، ۴/ ۹ ٭
الأبیات:
و فیہ قصۃ امرأتہ و ہربہا و فی الابیات قولہ :
و ہن شر غالب لمن غلب۔
قال :فجعل النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یقول :
و ہن شر غالب لمن غلب۔ یتمثلہن
حضرت عبد اللہ بن اعور مازنی اعشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ اشعار عرض کئے ۔ اے تمام آدمیوں کے مالک اور اے عرب کے جزا وسزا دینے والے میرا پالا ایک ایسی عورت سے پڑ گیا ہے جو نہایت زبان دراز ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کی فریاد سن کر شکایت رفع فرمادی ۔
دوسرے اشعار بھی اس موقع پر انہوں نے سنائے تھے جن میں ا نکی بیوی کے فرار کا قصہ اور آخر میں یہ شعر بھی تھا ۔
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے یہ آخری مصرع سن کر اس کو بطور مثل متعین فرمادیا کہ عورتیں بڑے بڑوں کو ناکوں چنے چبوادیتی ہیں ۔
] ۸[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یہ حدیث مندرجہ ذیل اسناد سے روایت کی گئی ہے ۔
الامام احمد حدثنا محمد بن ابی بکر المقدمی ثنا بو معشر البراء ثنی صدقۃ بن طیسنۃ، ثنی معن بن ثعلبۃ المازنی و الحی بعدہ، ثنی الاعشی المازی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال اتیت النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الحدیث ۔
و رواہ الامام اجل ابو جعفر الطحاوی فی معانی الاثار حدثنا ابن ابی داؤد ثنا المقدمی ثنا ابو معشر الی آخرہ نحوہ سند ا و متنا ۔
و رواہ ابن عبد اللہ ابن الامام فی زوائد مسندہ من طریق عوف بن کہمس بن الحسن عن صدقۃ بن طیسنۃ حدثنی معن بن ثعلبۃ المازنی و الحی بعدہ قالوا حدثنا الاعشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فذکرہ، قلت و الیہ اعنی عبد اللہ عزاہ حافظ الشان فی الاصابۃ انہ رواہ فی الزوائد ، و العبد الضعیف غفر اللہ تعالیٰ لہ قدراہ فی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع