30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
و آخرت کی سب مرادیں حضور کے اختیار میں ہیں جب تو بلاتقید و تخصیص فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے۔
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی شرح مشکوۃ شریف میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں ۔
از اطلاق سوال کہ فرمودہ ’سل ‘ و تخصیص نکرد بمطلوبے خاص معلوم می شودکہ کار ہمہ بدست ہمت و کرامت اوست صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ، ہر چہ خواہد و ہر کر خواہد باذن پرور دگار خود دہد ۔
فان من جودک الدنیا وضرتہا ، و من علو مک علم اللوح والقلم۔
علامہ علی قاری علیہ رحمۃ الباری مرقاۃ میں فرماتے ہیں ۔
یوخذ من اطلاقہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الا مر بالسؤال ان اللہ تعالیٰ مکنہ من اعطاء کل ما اراد من خزائن الحق ۔
یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جو مانگنے کا حکم مطلق دیا اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ عزوجل نے حضو ر کو قدرت بخشی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے جو کچھ چاہیں عطا فرمائیں ۔
پھر لکھا:۔
و ذکر ابن سبع و غیرہ فی خصائصہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان اللہ تعالیٰ اقطعہ ارض الجنۃ یعطی منہا ماشاء لمن یشاء ۔
یعنی ابن سبع وغیرہ علمائے کرام نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خصائص کریمہ میں ذکر کیا کہ جنت کی زمین اللہ عزوجل نے حضور کی جاگیر کر دی ہے کہ اس میں سے جو چاہیں جسے چاہیں بخش دیں ۔
امام اجل سیدی ابن حجر مکی قدس سرہ الملکی جوہر منظم میں فرماتے ہیں ۔
انہ کان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خلیفۃ اللہ الذی جعل خزائن کرمہ و موائد نعمہ طوع یدیہ و تحت ارادتہ ، یعطی منہا من یشاء و یمنع من یشاء ۔
بیشک حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اللہ عزوجل کے خلیفہ ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم کے خزانے اور اپنی نعمتوں کے خوان حضور کے دست قدرت کے فرمانبردار اورحضور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع