30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲۸۷۴۔عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : امر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بصدقہ ، فقیل : منع ابن جمیل و خالد بن الولید و عباس بن عبد المطلب ، فقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ما ینقم ابن جمیل الا انہ کان فقیرا فاغناہ اللہ و رسولہ ، واما خالد فانکم تظلمون خالدا ، قد احتبس ادراعہ و اعتدہ فی سبیل اللہ ، واما العباس بن عبدالمطلب فعم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فہی علیہ صدقۃ و مثلہا معہا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے زکوۃ کی وصول یابی کا حکم دیا ، حضور کی خدمت میں عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ابن جمیل ، خالد بن ولید اور حضرت عباس بن عبد المطلب نے زکوۃ دینے سے منع کر دیا ، حضور نے فرمایا : ابن جمیل نے کیوں منع کیا ؟ کیا اسے یہ بات بری لگی کہ وہ فقیر تھا اسے اللہ و رسول نے غنی کر دیا ، اور خالد بن ولید کامعاملہ یہ ہے کہ ان سے زکوۃ لینا ظلم کے مترادف ہے ، کیونکہ انہوں نے اپنا سب مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا ہے، یہاں تک کہ اپنی ذرع بھی ،اور حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی زکوۃ انہیں پر صدقہ ہے بلکہ اتنا ہی ان کو اور دے دیا
جائے۔۱۲م
۲۸۷۵۔عن انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اللہم انی احرم ما بین جبلیہا مثل ماحرم بہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام مکۃ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۸۷۴۔ الجامع الصحیح للبخاری ، باب قول اللہ تعالیٰ و فی الرقاب الخ، ۱/ ۱۹۸
الصحیح لمسلم ، کتاب الزکوۃ ، ۱/ ۳۱۶
السنن لا بی داؤد ، باب فی تعجیل الزکوۃ ، ۱/ ۲۲۹
السنن للنسائی ، باب اعطاء السید المال بغیر اختیار المصدق، ۱/ ۲۶۵
السنن الکبری للبیہقی ، ۴/ ۱۱۱ ٭ الصحیح لا بن خزیمۃ ، ۲۳۳
کنز العمال للمتقی ،۱۶۸۵۵،۶/ ۵۳۴ ٭ شرح السنۃ للبغوی ، ۶/ ۳۳
المصنف لعبد الرزاق، ۲۸۲۶، ٭ تاریخ دمشق لا بن عساکر ، ۷/ ۲۳۸
۲۸۷۵۔ الجامع الصحیح للبخاری ، باب الحیس ۲/ ۸۱۶
الصحیح لمسلم ، باب فضل المدینۃ ، ۱/ ۴۴۱
المسند لا حمد بن حنبل ، ۳/ ۱۵۹ ٭ الترغیب االترہیب للمنذری ، ۲/ ۲۲۹
کنز العمال للمتقی ، ۳۴۸۷۳، ۱۲/۲۴۳ ٭ جمع الجوامع للسیوطی ، ۹۶۸۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع