30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر حضرت موسی سے ملاقات ہوئی تو آپ کا مشورہ اب بھی یہی تھا کہ مزید تخفیف اور کرائیے۔میں نے کہا : اب مجھے تخفیف کے لئے رب کے حضور جاتے ہوئے شرم آتی ہے۔
میں نے صبح کو اہل مکہ کے سامنے یہ عجائب و غرائب بیان فرمائے کہ میں رات بیت المقدس گیا ، وہاں سے آسمانوں کی طرف سیر کی ،اور وہاں ایسا ایسا دیکھا ، ابو جہل بن ہشام نے لوگوں سے کہا: لوگو! محمد ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) سے یہ تعجب خیز باتیں سنو، کہہ رہے ہیں کہ میں رات میں بیت المقدس گیا اور اب صبح کو یہ ہم میں موجود ہیں ۔حالانکہ بیت المقدس آنے جانے میں دو ماہ لگ جاتے ہیں ، اور یہ صرف ایک رات میں ہو آئے۔
اس پر میں نے قریش کے ایک قافلہ کی بھی نشاندہی کی ، کہ میں جب جا رہا تھا تو وہ فلاں فلاں مقام پر نظر آیا ، اور جب میں لوٹا تو میں نے ان کو عقبہ کے پاس دیکھا ہے ۔ہر شخص ،اسکا اونٹ اور اس کے ساز و سامان کا بھی میں نے پتہ دیا اس پر ابو جہل بولا: دیکھو یہ کچھ چیزوں کی خبر بھی دے رہے ہیں۔
مشرکین میں سے ایک شخص بولا : میں بیت المقدس کو دوسروں کی نسبت خوب جانتا ہوں ، اس کی عمارت ، شکل و صورت اور پہاڑ کے قریب جائے وقوع سے بھی خوب واقف ہوں۔ اگر وہ سچ فرماتے ہیں تو میں ابھی آپ لوگوں کوبتا تا ہوں ۔ اور غلط کہتے ہیں تو بھی میں تم کو بتاؤں گا ۔ وہ مشرک آیا اور بولا: اے محمد ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) میں لوگوں میں بیت المقدس سے بخوبی واقف ہوں ، بتائیے کہ اس کی عمارت ،شکل وصورت اور اسکا جائے وقوع کیسا ہے ؟
حضور فرماتے ہیں : کہ پھربیت المقدس حضور کے سامنے اس طرح کر دی گئی جیسے مالک مکان کے سامنے اسکا مکان ہو ،۔آپ نے پوری تفصیل واضح طور پر بیان فرما دی ، یہ سن کر وہ مشرک بولا : آپ نے سچ کہا : پھر اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا : محمد ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) سچ کہہ رہے ہیں ۔۱۲م
ژژژژژ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع